عیدالاضحی خوشیوں، محبتوں اور قربانی کے جذبے کا عظیم تہوار ہے۔ اس موقع پر گھروں میں رونقیں بڑھ جاتی ہیں، بچے نئے کپڑوں، سیر و تفریح اور عید کی خوشیوں میں مگن نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ انہی خوشیوں بھرے دنوں میں ٹریفک حادثات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے، جن میں بڑی تعداد کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی ہوتی ہے۔
والدین سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ خدارا کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل یا گاڑی چلانے کی اجازت نہ دیں۔ کم عمری میں ڈرائیونگ نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ یہ بچے کی اپنی زندگی اور دوسروں کی جان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ عید کے دنوں میں سڑکوں پر غیر معمولی رش، جلد بازی اور غیر محتاط ڈرائیونگ کئی قیمتی جانیں نگل لیتی ہے۔ چند لمحوں کی لاپرواہی ایک ہنستے بستے گھر کو ہمیشہ کے لیے سوگ میں بدل سکتی ہے۔
اکثر والدین محبت یا وقتی خوشی کی خاطر بچوں کی ضد مان لیتے ہیں، مگر حقیقی محبت وہی ہے جو اولاد کی حفاظت کو ہر خواہش پر ترجیح دے۔ ایک موٹر سائیکل وقتی خوشی تو دے سکتی ہے، لیکن احتیاط نہ ہو تو یہی خوشی زندگی بھر کے پچھتاوے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ والدین کے لیے اس سے بڑا دکھ کوئی نہیں کہ معمولی غفلت ان کے بچے کی جان یا مستقبل کو خطرے میں ڈال دے۔
وقت کی اہم ضرورت ہے کہ بچوں کو کم عمری ہی سے ٹریفک قوانین کی پابندی، ہیلمٹ کے استعمال اور ذمہ دارانہ رویّے کی تربیت دی جائے۔ انہیں یہ شعور دیا جائے کہ سڑک پر احتیاط صرف اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی کی حفاظت بھی ہے۔ ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب والدین اپنی اولاد کی درست رہنمائی کریں۔
اس عید پر عہد کیجیے کہ خوشیوں کو غم میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ اپنے بچوں کو محفوظ رکھیں، قانون کی پاسداری سکھائیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا عملی ثبوت دیں۔ کیونکہ آپ کا ایک درست فیصلہ کسی قیمتی زندگی کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
