پرائمری تعلیم کسی بھی معاشرے کی سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ کسی ملک کے تعلیمی نظام کی مضبوطی کا اندازہ عموماً پرائمری اسکولوں کی تعداد، ان کی جغرافیائی تقسیم اور تعلیمی معیار سے لگایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں مختلف ممالک اپنے وسائل، آبادی اور حکومتی ترجیحات کے مطابق تعلیمی ڈھانچے تشکیل دیتے ہیں۔ اسی عالمی تناظر میں خیبر پختونخوا کی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ اس کے تعلیمی چیلنجز اور ممکنہ مواقع کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

عالمی سطح پر افریقی ممالک میں اوسطاً ہر ملک میں تقریباً 6 ہزار پرائمری اسکول موجود ہیں، تاہم یہ تعداد ملک بہ ملک مختلف ہے۔ جنوبی افریقہ اس حوالے سے نمایاں مثال ہے جہاں تقریباً 21 ہزار پرائمری اسکول قائم ہیں۔ یہ تعداد نسبتاً مضبوط تعلیمی انفراسٹرکچر کی عکاسی کرتی ہے، لیکن وہاں بھی شہری علاقوں میں طلبہ کے بڑھتے دباؤ اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم جیسے مسائل موجود ہیں۔

جنوبی ایشیا میں خیبر پختونخوا ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں تقریباً 22 ہزار سے 25 ہزار سرکاری پرائمری اسکول موجود ہیں۔ اس بڑی تعداد کے باوجود صوبہ ایک سنگین تعلیمی بحران کا سامنا کر رہا ہے، کیونکہ تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں اکثریت پرائمری عمر کے بچوں کی ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مسئلہ صرف اسکولوں کی تعداد کا نہیں بلکہ آبادی کے دباؤ، غیر متوازن جغرافیائی تقسیم اور نظامی کمزوریوں کا بھی ہے، جو تعلیمی رسائی میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس تعلیمی خلا کو پُر کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کو تقریباً 15 ہزار اضافی اسکولوں کی ضرورت ہے تاکہ تمام غیر اسکولی بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لایا جا سکے۔ تاہم موجودہ رفتار کے مطابق صوبائی حکومت سالانہ تقریباً 300 نئے اسکول قائم یا منظور کرتی ہے۔ اس حساب سے مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں تقریباً 50 برس لگ سکتے ہیں، جو بڑھتی ہوئی آبادی اور تعلیمی ترقی کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

اگر عالمی مثالوں پر نظر ڈالی جائے تو آسٹریلیا میں تقریباً 5,600 سے 6,200 پرائمری اسکول موجود ہیں۔ اگرچہ وہاں آبادی نسبتاً کم ہے، لیکن تعلیمی نظام انتہائی منظم اور مؤثر ہے۔ اسی طرح سری لنکا میں تقریباً 10 سے 11 ہزار اسکول ہیں اور یہ ملک 90 فیصد سے زائد شرح خواندگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کامیابی کی بنیادی وجہ مضبوط سرکاری تعلیمی نظام اور مفت تعلیم کی پالیسی ہے۔

دوسری جانب نیپال میں تقریباً 26 سے 28 ہزار پرائمری اسکول موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد دیہی اور کمیونٹی سطح کے اسکولوں کی ہے۔ یہ ماڈل دشوار گزار جغرافیائی علاقوں میں تعلیم کی رسائی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

یہ تقابلی جائزہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ صرف اسکولوں کی تعداد کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کا مکمل معیار نہیں ہوتی۔ کئی ممالک کم اسکولوں کے باوجود بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان کے نظام زیادہ مؤثر، مربوط اور جوابدہ ہوتے ہیں، جبکہ بعض جگہوں پر زیادہ اسکول ہونے کے باوجود معیار اور رسائی کے مسائل برقرار رہتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بھی اصل مسئلہ صرف انفراسٹرکچر کی کمی نہیں بلکہ نظامی کارکردگی اور وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں، حالانکہ صوبے میں اسکولوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔

اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک جامع اور متوازن حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے ان اضلاع کو ترجیح دینا ہوگی جہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد زیادہ ہے، خصوصاً دیہی اور ضم شدہ اضلاع۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی کمی پوری کرنا، نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرنا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔

مزید برآں، زیادہ آبادی والے علاقوں میں ڈبل شفٹ اسکولوں اور کمیونٹی بیسڈ تعلیم جیسے ماڈلز اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ انفراسٹرکچر پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ اسی طرح ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ تعلیمی پالیسیاں زمینی حقائق اور آبادی کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دی جا سکیں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کا تعلیمی نظام ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اسے بیک وقت توسیع اور اصلاح، دونوں کی ضرورت ہے۔ صرف نئے اسکول تعمیر کرنا کافی نہیں بلکہ معیاری تعلیم، مؤثر انتظام اور مساوی رسائی کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔ متوازن حکمتِ عملی ہی صوبے کو اس سمت لے جا سکتی ہے جہاں ہر بچہ اسکول تک رسائی حاصل کرے اور معیاری تعلیم اس کا بنیادی حق بن سکے۔