خیبر پختونخوا میں بدامنی، امن و امان کی مخدوش صورتحال اور مختلف علاقوں سے نقل مکانی کے باعث لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 55 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن میں سابق قبائلی اضلاع کے 5 لاکھ جبکہ ضلع خیبر کے 74 ہزار بچے شامل ہیں۔

سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر محکمہ تعلیم نے تعلیمی سال 2026-27 کے لیے خصوصی داخلہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کے تحت صوبہ بھر میں 11 لاکھ 74 ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق ضلع خیبر کو 41 ہزار بچوں کے داخلے کا ہدف دیا گیا ہے، جن میں 20 ہزار 300 لڑکے اور 20 ہزار 700 لڑکیاں شامل ہیں۔

ضلع خیبر کی مختلف تحصیلوں میں داخلہ مہم کے دوران حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تحصیل جمرود میں مقررہ ہدف کے مقابلے میں 3,066، لنڈی کوتل میں 2,100 جبکہ باڑہ میں مقررہ 5 ہزار بچوں کے ہدف میں سے 4,449 بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا جا چکا ہے۔

محکمہ تعلیم خیبر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور محکمہ تعلیم کی ہدایات پر تحصیل باڑہ میں اساتذہ کی مسلسل محنت اور مقامی تعاون کے باعث داخلہ مہم کامیابی سے جاری ہے، جہاں اب تک مقررہ ہدف کا 95 فیصد حاصل کر لیا گیا ہے۔

تعلیمی حکام کے مطابق ضلع بھر میں لڑکیوں کے داخلے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ 11 ہزار 700 بچیوں کے داخلے کے ہدف میں سے اب تک 3 ہزار 300 سے زائد بچیاں سکولوں میں داخل ہو چکی ہیں، جن میں وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی بچیاں بھی شامل ہیں۔

محکمہ تعلیم کے مطابق داخلہ مہم کے دوران قبیلہ آکاخیل اور قبیلہ سپاہ میں سب سے زیادہ بچوں کا داخلہ ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ ہدف مکمل ہونے تک مہم جاری رہے گی۔

انہوں نے والدین، قبائلی عمائدین، سماجی کارکنوں اور مقامی نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے محکمہ تعلیم کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

محکمہ تعلیم کے مطابق صوبائی حکومت نے داخلہ لینے والے بچوں کے لیے خصوصی فنڈز بھی مختص کیے ہیں، جن کے تحت بچوں کو عید گفٹ اور گرمیوں کی تعطیلات کے بعد مختلف تعلیمی مراعات فراہم کی جائیں گی۔

حکام کے مطابق صوبہ بھر میں اب تک 5 لاکھ 72 ہزار سے زائد بچوں کو سکولوں میں داخل کیا جا چکا ہے، جبکہ مقررہ ہدف کے حصول تک داخلہ مہم جاری رہے گی۔