باڑہ: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ضلع خیبر نے متاثرین تیراہ کے 37 نکاتی مطالبات پر خاطر خواہ عملدرآمد نہ ہونے اور متاثرین راجگال کے مسائل کے حل میں پیش رفت نہ ہونے پر مرحلہ وار احتجاجی اور قانونی لائحہ عمل کا اعلان کردیا۔

باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اے این پی ضلع خیبر کے صدر سفیر امن عبدالرزاق آفریدی نے کہا کہ تیراہ میدان اور راجگال کے متاثرین کو جانی و مالی نقصانات سمیت متعدد مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ان کے مسائل کے حل اور کیے گئے وعدوں پر تاحال خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کے گھروں، زمینوں، فصلوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ، امدادی پیکیج کی فراہمی اور ان کی باعزت و محفوظ واپسی یقینی بنانا ضروری ہے۔

عبدالرزاق آفریدی نے بتایا کہ اے این پی نے نقصانات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے خصوصی فارم جاری کردیا ہے، جبکہ 14، 15 اور 16 ستمبر کو مقررہ کیمپوں میں متاثرین سے درخواستیں، شکایات اور نقصانات کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ 17 ستمبر کو ملگری وکیلان کے ساتھ قانونی مشاورت کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 18 ستمبر کو باڑہ چوک میں پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جس میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

اے این پی ضلع خیبر کے صدر نے واضح کیا کہ احتجاج کسی حکومت یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ متاثرین تیراہ اور راجگال کے جائز حقوق کے حصول کے لیے کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر 18 ستمبر کے احتجاج کے بعد مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی، متاثرین کو اپنی فصلوں تک رسائی نہ دی گئی اور وعدے کے مطابق امدادی پیکیج جاری نہ کیا گیا تو 30 ستمبر سے قبل وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس، قلعہ بالاحصار اور کور کمانڈر ہاؤس کے سامنے بڑے پُرامن دھرنے دیے جائیں گے۔

پارٹی رہنما کے مطابق احتجاج آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے سے جاری رکھا جائے گا، جب تک متاثرین کی واپسی یا ان کے نقصانات کے مناسب ازالے کے لیے مؤثر فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

پریس کانفرنس میں ضلعی نائب صدر صدیق چراغ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالوہاب، ترجمان امیر شاہ، فنانس سیکریٹری شبیر آفریدی، تحصیل باڑہ کے صدر عبدالواحد، جنرل سیکریٹری سبحان اللہ، ملگری لیکوالان کے ضلعی صدر امید آفریدی اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔