خاندان کسی غیر قانونی یا ملک دشمن سرگرمی میں ملوث نہیں، ممکنہ کارروائی ہوئی تو اسے انتقامی اقدام سمجھا جائے گا، شاہ حسین شینواری

لنڈی کوتل: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی رہنما شاہ حسین شینواری نے کہا ہے کہ تاجر حاجی محمد ظریف عرف لنڈے شینواری کے اغوا کے خلاف جدوجہد میں ساتھ دینے پر ضلع خیبر کے سیاسی رہنماؤں، عوامی نمائندوں، مشران، سماجی و فلاحی شخصیات اور عوام کے شکر گزار ہیں۔

ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں خاندان کے سرکردہ مشران کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ حسین شینواری نے کہا کہ مشکل وقت میں قوم نے جس طرح ان کا ساتھ دیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے پریس کلب کی صحافی برادری کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ صحافیوں نے اس معاملے کو مثبت انداز میں اجاگر کیا، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد کا مثبت نتیجہ سامنے آیا ہے جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح قوم نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا، اسی طرح مستقبل میں بھی اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو وہ اپنی قوم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور کسی مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

شاہ حسین شینواری نے کہا کہ ان کا خاندان کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں، تاہم انہیں مختلف نوعیت کے اشارے مل رہے ہیں۔ اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو وہ اسے ایک سازش تصور کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی لوگ ہیں اور تمام مسائل کو قانونی طریقے اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے بقول معاملات کو ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی ہے، تاہم اگر کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو وہ اس کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار ہیں۔

اے این پی رہنما کا کہنا تھا کہ وہ ایسی کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں اور نہ ہی انہیں اس حوالے سے کوئی پریشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کیس کے پیچھے کوئی عناصر موجود ہیں تو وہ ان کے خاندان کے دشمن ہوں گے۔

شاہ حسین شینواری نے واضح کیا کہ ان کا خاندان کسی بھی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اسے وہ محض انتقامی کارروائی سمجھیں گے۔