غازی بیگ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر سمیت اہم مضامین کے اساتذہ کی آسامیاں خالی، یاسین کور پرائمری سکول میں 300 بچوں کیلئے صرف ایک استاد تعینات
قبائلی ضلع مہمند کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی شدید کمی کے باعث طلباء کا تعلیمی مستقبل تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ غازی بیگ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر سمیت ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کے اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں، جبکہ یاسین کور پرائمری سکول میں تقریباً 300 طلباء کیلئے صرف ایک استاد تعینات ہے۔
اس صورتحال پر پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما جھانگیر خان اور جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنما قاری فضل الرحمان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ تعلیم اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور اساتذہ کی کمی دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مقامی رہنما جھانگیر خان نے گورنمنٹ ہائی سکول غازی بیگ کا دورہ کیا اور وہاں تعلیمی و تدریسی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ سکول میں اس وقت 219 طلباء زیرِ تعلیم ہیں، تاہم ہیڈ ماسٹر سمیت ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی جیسے اہم مضامین کے اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سکول میں دو ایس ایس ٹی اساتذہ تعینات ہیں، جن میں سے ایک بیماری کے باعث رخصت پر ہے، جبکہ ایک پی ٹی اور ایک او ٹی استاد اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ محدود تدریسی وسائل کے باوجود اساتذہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
جھانگیر خان نے ہیڈ ماسٹر اور اہم مضامین کے اساتذہ کی خالی آسامیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے طلباء کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خالی آسامیوں پر فوری طور پر اہل اساتذہ تعینات کیے جائیں۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنما قاری فضل الرحمان نے گورنمنٹ پرائمری سکول یاسین کور میں تقریباً 300 طلباء کیلئے صرف ایک استاد کی تعیناتی کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک استاد بیک وقت 300 بچوں کو کس طرح معیاری تعلیم فراہم کر سکتا ہے۔ اساتذہ کی شدید کمی کے باعث علاقے میں تدریسی نظام مایوس کن صورتحال اختیار کر چکا ہے، جس کا براہِ راست نقصان طلباء کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
قاری فضل الرحمان نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ یاسین کور سمیت ضلع مہمند کے دیگر سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی فوری طور پر دور کی جائے اور ضرورت کے مطابق تدریسی عملہ تعینات کیا جائے۔
مقامی رہنماؤں نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام پر زور دیا ہے کہ ضلع مہمند کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، خالی آسامیوں اور عملے کی تعیناتیوں کا فوری جائزہ لے کر مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ طلباء کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور انہیں معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
