خیبر: جمرود جبہ ڈیم، تپہ مکی خیل اور تپہ مستل خیل کے متاثرین نے اپنے حقوق کے حصول اور 22 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف 17 ستمبر بروز جمعرات پشاور میں خیبر ہاؤس کے سامنے مطالبات کی منظوری تک احتجاجی کیمپ لگانے کا اعلان کردیا۔

جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرین کے ہمراہ محمد عرفان کھٹیاخیل، داؤد خان، حاجی لعل بت خان، فضل الرحمان، ستانہ میر، خیال اکبر اور دیگر مشران نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے حکومت کے مختلف متعلقہ اداروں سے رابطے، مذاکرات اور درخواستیں کر چکے ہیں، جبکہ 22 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کیا گیا، تاہم انہیں مسلسل ٹال مٹول اور خاموشی کا سامنا کرنا پڑا۔

مشران کے مطابق 2 اگست کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے جمرود دورے کے موقع پر احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا، جس کے دوران ضلعی سول انتظامیہ خیبر کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ انتظامیہ کی یقین دہانی پر احتجاجی کیمپ ختم کردیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ متاثرین کی اراضی کا مکمل حساب فراہم کیا جائے گا، ہر متاثرہ شخص کی تفصیلات اور اسے ادا کی جانے والی رقم کا ریکارڈ سامنے لایا جائے گا، پیمائش کا عمل مکمل کیا جائے گا جبکہ متاثرین کے جائز معاشی حقوق اور دیگر مطالبات پر بھی پیش رفت کی جائے گی۔

متاثرین نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ خیبر کی یقین دہانی پر وہ جبہ ڈیم کے علاقے میں گئے، جہاں متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ تھے اور اراضی کے حوالے سے نقاط بھی لیے گئے، تاہم نقاط حاصل کرنے کے باوجود زمین کی پیمائش کا عمل تاحال مکمل نہیں کیا گیا۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ اراضی کے حصول کے قانونی طریقہ کار کے تحت زمین کی پیمائش، حد بندی اور ملکیت کی جانچ بنیادی مراحل ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں بتایا جا رہا ہے کہ ہر متاثرہ شخص کا مکمل حساب ابھی تک موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف تاحال ایوارڈ جاری نہیں کیا گیا جبکہ دوسری جانب 47 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زائد رقم متاثرین کو ادا کیے جانے کی بات سامنے آ رہی ہے، جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

متاثرین نے مطالبہ کیا کہ اگر معاوضے کی ادائیگی کا عمل مکمل طور پر شفاف ہے تو اس کا تمام ریکارڈ منظر عام پر لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ کس شخص کی کتنی اراضی حاصل کی گئی، کس کو کتنی رقم ادا کی گئی اور مجموعی طور پر کتنی اراضی منصوبے کے لیے حاصل کی گئی۔

مشران نے کہا کہ مکمل حساب سامنے نہ آنے، پیمائش میں تاخیر اور مختلف معاملات میں تضاد کے باعث متاثرین کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق تمام معاملات کا مکمل ریکارڈ سامنے آنے سے صورتِ حال واضح ہوسکتی ہے۔

متاثرین نے واضح کیا کہ وہ ترقیاتی منصوبے کے مخالف نہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ جبہ ڈیم کا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچے، تاہم ان کے جائز حقوق کی حق تلفی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

تحریک حقوق متاثرین جبہ ڈیم، تپہ مکی خیل اور تپہ مستل خیل نے اعلان کیا کہ اپنے جائز مطالبات کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے 17 ستمبر بروز جمعرات پشاور میں خیبر ہاؤس کے سامنے مطالبات کی منظوری تک احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا۔