پشاور: پشاور صدر میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے باڑہ سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ پر مبینہ تشدد اور ان کی مرضی کے خلاف صلح نامے پر دستخط کروانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ طلبہ نے واقعے کے خلاف باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، سی سی پی او پشاور اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

باڑہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مدثر آفریدی، ثاقب آفریدی اور صلاح الدین آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پشاور صدر میں ٹریفک پولیس اہلکاروں نے انہیں مبینہ طور پر موٹر سائیکل سے گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ طلبہ کے مطابق وہ آرمی پبلک سکول کے طالب علم ہیں۔

طلبہ نے الزام عائد کیا کہ جب اہلکاروں کو ان کے باڑہ سے تعلق کا علم ہوا تو ان پر مبینہ طور پر بدمعاشی کا الزام لگایا گیا اور انہیں ایک کمرے میں بند کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق جیب میں موجود 12 ہزار روپے نقدی بھی معاملے کا حصہ بنی، جبکہ ان کی مرضی کے خلاف صلح نامے پر دستخط کروائے گئے۔

متاثرہ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ پولیس کا بنیادی کام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم اگر پولیس اہلکار ہی شہریوں کے ساتھ مبینہ تشدد اور ناروا سلوک کریں تو یہ تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سی سی پی او پشاور اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ تشدد میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کرکے تحقیقات کی جائیں اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔