پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پولیس کو مطلوب ممتاز عرف ممتازے کی بحرین سے گرفتاری کے بعد پشاور میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔

ممتاز عرف ممتازے کی والدہ کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ممتاز کو بحرین میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسے پاکستان منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی، جس پر اس کی والدہ نے اپنے بیٹے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ممتاز کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں، تاہم پولیس نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا تھا کہ ممتاز پولیس کی تحویل میں نہیں اور نہ ہی اسے گرفتار کیا گیا ہے۔

شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ کے مطابق ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پشاور پولیس کی درخواست پر ممتاز کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے تھے اور انٹرپول کے ذریعے اسے بحرین سے گرفتار کیا گیا۔

وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ ممتاز کو بحرین سے گرفتار کرکے اسلام آباد ایئرپورٹ لایا گیا، جہاں سے اسے پشاور منتقل کیا گیا، تاہم بعدازاں پشاور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران وہ ہلاک ہوگیا۔

اس موقع پر جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ ’’اب کیا ہوگا اس میں؟‘‘

وکیل نے جواب دیا کہ معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے ذریعے کرائی جا سکتی ہیں، جس پر عدالت نے ایف آئی اے کو واقعے کی انکوائری کرنے کا حکم دے دیا۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے، جبکہ پولیس مقابلے کے دوران دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ممتاز عرف ممتازے کو مبینہ طور پر خود ساختہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا، اور ان کے پاس اس حوالے سے شواہد بھی موجود ہیں۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں معاملے سے متعلق بعض دستاویزات، ویڈیوز اور آڈیوز عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ممتاز کے اہل خانہ کے پاس واقعے سے متعلق متعدد شواہد اور ثبوت موجود ہیں، جنہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔