ضلع خیبر کے جمرود بازار میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایف بی آر ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف انجمن تاجران جمرود بازار اور شاہ کس برف فیکٹریوں کے مالکان کی کال پر مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ اس موقع پر تاریخی بابِ خیبر کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ اور ریلی بھی نکالی گئی، جس میں تاجروں، قبائلی مشران، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے میں فاٹا لویہ جرگہ کے صدر بسم اللہ خان آفریدی، کوکی خیل قوم کے مشران ملک صلاح الدین کوکی خیل اور ملک سردار اعظم، جمرود سیاسی اتحاد کے صدر مولانا سعید خان، انجمن تاجران جمرود بازار کے صدر کاشف اقبال آفریدی، شاہ کس برف فیکٹریوں کے صدر طاہر خان سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔ مقررین نے بتایا کہ ضلع خیبر بھر میں ایف بی آر ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام اور تاجر پہلے ہی بدامنی، دہشت گردی اور معاشی مشکلات کے باعث شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ریلیف فراہم کرنے کے بجائے وفاقی ٹیکسز کا نفاذ عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام ایف بی آر ٹیکسز کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک قبائلی اضلاع کے عوام اور تاجروں کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جاتا اور وہ معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوتے، اس وقت تک ٹیکس ادا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔
مقررین نے یاد دلایا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے وقت قبائلی عوام سے سالانہ 110 ارب روپے کی فراہمی، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ دینے اور قبائلی اضلاع کو ٹیکس سے استثنا دینے جیسے وعدے کیے گئے تھے، تاہم ان کے بقول یہ وعدے آج تک پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نہ سالانہ فنڈز فراہم کیے گئے، نہ این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ملا اور نہ ہی ٹیکس استثنا برقرار رکھا گیا، جبکہ اب وفاقی ٹیکسز نافذ کرکے قبائلی عوام پر مزید معاشی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
قبائلی مشران نے کہا کہ قبائلی عوام پہلے ہی دہشت گردی اور بدامنی سے متاثر ہیں، اس لیے وہ "ٹیکسز کی دہشت گردی" مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کو مزید 20 سال کے لیے فری ٹیکس زون قرار دیا جائے اور ایف بی آر ٹیکسز کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ عوام اور تاجروں کو ریلیف مل سکے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو شٹرڈاؤن ہڑتال کے بعد احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے اہم شاہراہوں کو بند کیا جائے گا۔
