اٹلی کے علاقے کالابریا کے شہر امینڈولارا  میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے ضلع مردان کے علاقے طورو سے تعلق رکھنے والے نوجوان وسیم اللہ کی میت وطن پہنچنے کے بعد آج ان کے آبائی گاؤں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ نمازِ جنازہ میں اہلِ علاقہ، عزیز و اقارب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وسیم اللہ بہتر روزگار کی غرض سے کچھ عرصہ قبل اٹلی گئے تھے، جہاں وہ اسٹرابیری کے کھیتوں میں محنت مزدوری کر رہے تھے۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں گزشتہ دو ماہ سے اجرت ادا نہیں کی گئی تھی۔ اپنی والدہ سے آخری ٹیلیفونک گفتگو میں انہوں نے یقین دلایا تھا کہ تنخواہ ملتے ہی گھر کے اخراجات اور والدہ کے علاج کے لیے رقم بھیج دیں گے۔

تاہم اگلے ہی روز اہلِ خانہ کو یہ المناک اطلاع ملی کہ وسیم اللہ کو تین افغان ساتھیوں سمیت ایک گاڑی میں زندہ جلا دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر مزدوری کی اجرت کے تنازع سے جڑا ہوا ہے، جبکہ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کیس میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اطالوی حکام واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

اہلِ خانہ کے مطابق وسیم اللہ کے والد پہلے ہی انتقال کر چکے تھے اور وہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے والے اہم فرد تھے۔ ان کی بیمار والدہ کو بیٹے کی شہادت کی خبر بھی فوری طور پر نہیں دی گئی تاکہ پہلے میت وطن پہنچ جائے۔

نمازِ جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ شرکاء نے مرحوم کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

اہلِ علاقہ نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بیرونِ ملک پاکستانی محنت کشوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ اس اندوہناک واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دلانے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔