چارسدہ: مائیگریشن وسائل مرکز کے تعاون سے ہیومن ریسورس سپورٹ پروگرام نے ضلع چارسدہ میں محفوظ ہجرت، قانونی ذرائع کے فروغ اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے موضوع پر آگاہی نشست منعقد کی۔
نشست کا مقصد نوجوانوں، طلبہ، والدین اور عوام میں محفوظ اور قانونی ہجرت سے متعلق شعور اجاگر کرنا، غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے آگاہ کرنا اور قانونی ذرائع اختیار کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کرنا تھا۔
اس موقع پر مائیگریشن وسائل مرکز کے مشیر حسین ابدالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنا نہ صرف ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جان، عزت اور مستقبل کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلر نوجوانوں کو جھوٹے وعدوں اور روشن مستقبل کے خواب دکھا کر غیر قانونی راستوں پر آمادہ کرتے ہیں، جس کے باعث متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا بیرونِ ملک گرفتاری، قانونی پیچیدگیوں، استحصال اور دیگر سنگین مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بیرونِ ملک تعلیم، روزگار یا دیگر مقاصد کے لیے ہمیشہ قانونی اور محفوظ ذرائع اختیار کیے جائیں اور کسی بھی فیصلے سے قبل متعلقہ مستند اداروں سے مکمل رہنمائی حاصل کی جائے۔ ان کے مطابق محفوظ ہجرت ہی باوقار، کامیاب اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، جبکہ غیر قانونی راستے افراد اور ان کے خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
ہیومن ریسورس سپورٹ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو افسر ناصر اکبر نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ مائیگریشن وسائل مرکز کے اشتراک سے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں مزید آگاہی پروگرام، مذاکرے اور عوامی نشستیں منعقد کرے گا تاکہ نوجوانوں، طلبہ، والدین اور دیگر طبقات کو محفوظ ہجرت، قانونی مواقع اور انسانی اسمگلنگ کے خطرات سے مؤثر انداز میں آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں اداروں کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ محفوظ ہجرت سے متعلق درست معلومات زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق آئندہ صوبے کے مختلف اضلاع میں ایسی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ نوجوان غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے خطرات سے محفوظ رہیں اور بیرونِ ملک تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل کے لیے صرف قانونی اور محفوظ ذرائع اختیار کریں۔
نشست کے اختتام پر شرکاء نے محفوظ ہجرت، قانونی طریقۂ کار، ویزا ضوابط اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ شرکاء نے اس بروقت اور معلوماتی پروگرام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی آگاہی مہمات جاری رہیں گی تاکہ خصوصاً نوجوان نسل کو محفوظ اور قانونی ہجرت کے حوالے سے درست معلومات فراہم کی جا سکیں اور انہیں غیر قانونی راستوں کے خطرناک نتائج سے محفوظ رکھا جا سکے۔
