ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ٹیسکو کی جانب سے چوبیس گھنٹوں میں چار گھنٹے بجلی فراہم کرنے کے اعلان کے باوجود صارفین کو بمشکل ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ بجلی بھی وقفے وقفے سے مل رہی ہے، جس کے باعث شدید گرمی میں عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

شہریوں کے مطابق مسلسل لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور بجلی کے بار بار آنے جانے سے نہ صرف پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے بلکہ برقی آلات بھی خراب ہو رہے ہیں۔

شلوبر، قمبرخیل اور نوگزی بابا کے رہائشی سید محمد خان نے بتایا کہ ٹیسکو کی جانب سے چار گھنٹے بجلی فراہمی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، تاہم عملی طور پر صرف ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ بجلی بھی وقفوں میں فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق شدید گرمی میں یہ صورتحال شہریوں کے لیے ناقابل برداشت بن چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معمولی بارش یا تیز ہوا کے بعد کئی مرتبہ پورے چوبیس گھنٹے، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ وقت تک بجلی معطل رہتی ہے۔ ٹیسکو حکام ہر بار فالٹ کا جواز پیش کرتے ہیں، تاہم بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث عوام کو شدید ذہنی اذیت اور روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

باڑہ کے علاقے آکاخیل کے رہائشی واجد علی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں بجلی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی بجلی نہ ہونے کے برابر ملتی ہے، جبکہ بعض اوقات نجی لائن مین مبینہ طور پر ٹیسکو اہلکاروں اور بعض بااثر شخصیات کے تعاون سے رات کی تاریکی میں مخصوص علاقوں کی بجلی منقطع کر دیتے ہیں، جس کے باعث کئی کئی روز تک بجلی بحال نہیں ہوتی۔

واجد علی نے الزام عائد کیا کہ آکاخیل کی تھری فیز (ہائی ٹینشن) لائن کے ذریعے پشاور کے علاقے بڈھ بیر کے بعض علاقوں کو غیر قانونی طور پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے متعدد بار ٹیسکو حکام کو شکایات درج کرائی گئیں، تاہم غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بدترین لوڈشیڈنگ کا سب سے زیادہ اثر بچوں، خواتین، بزرگوں اور مریضوں پر پڑ رہا ہے۔ شدید گرمی میں پنکھے اور کولر بند رہنے کے باعث چھوٹے بچے گرمی، پانی کی کمی اور مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ متعدد بچوں کی طبیعت خراب ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب بزرگ افراد اور دل، شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض شدید اذیت میں مبتلا ہیں، جبکہ خواتین کو پانی کی عدم دستیابی کے باعث گھریلو امور انجام دینے میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔

ادھر تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً 30 ہزار خاندان اس وقت باڑہ کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں، جہاں وہ پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔ بدترین لوڈشیڈنگ نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ملک دین خیل نالہ میں اپنے دس رکنی خاندان کے ساتھ مقیم بے گھر شخص خیراللہ نے بتایا کہ نقل مکانی کی تکلیف اپنی جگہ، مگر بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے زندگی مزید دشوار بنا دی ہے۔

انہوں نے کہا، "شدید گرمی میں ایک بیٹری اور ایک پنکھے کے سہارے گزارا کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ طویل لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے باعث پانی کی موٹر نہیں چلتی، جس سے پینے کے پانی سمیت روزمرہ استعمال کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہوتا۔"

اس صورتحال پر ٹیسکو کا مؤقف جاننے کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سے رابطہ کیا گیا اور عوامی شکایات، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور مبینہ غیر قانونی کنکشنز سے متعلق موقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم یقین دہانی کے باوجود خبر فائل کیے جانے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

علاقہ مکینوں نے وفاقی حکومت، ٹیسکو، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، متعلقہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ باڑہ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے، بجلی کی منصفانہ اور بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، غیر قانونی کنکشنز کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں سمیت تمام متاثرہ آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔