باڑہ: حمزہ ادبی لشکر (حال) باڑہ کے زیرِ اہتمام اور محکمہ اُمورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کے تعاون سے گزشتہ روز ایک روزہ ادبی، فکری اور ثقافتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمی و ادبی شخصیات، شعراء، ادباء اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سیمینار کے پہلے سیشن میں معروف دانشور ڈاکٹر حنیف خلیل نے “پشتون کے سماجی شعور کے میدان” کے موضوع پر تفصیلی اور مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے پشتون معاشرے میں شعور، فکری بیداری اور سماجی ذمہ داریوں کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ شرکاء نے ان کے خطاب کو بے حد سراہا، جبکہ سوال و جواب کے سیشن میں بھی انہوں نے نہایت علمی انداز میں حاضرین کے سوالات کے جوابات دیے۔
دوسرے سیشن میں پروفیسر جاوید احساس نے “معاصر سیاست میں ادب اور ادیب کا منصب” کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادب معاشرے کی فکری سمت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے موجودہ سیاسی و سماجی حالات میں ادیب کی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالی۔
تیسرے سیشن میں صدیق چراغ نے “ادیب: مبصر یا عملی مبارز؟” کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ادیب کے عملی کردار اور سماجی جدوجہد میں اس کی شمولیت پر تفصیلی گفتگو کی۔
چوتھے سیشن میں ڈاکٹر گلزار جلال نے “مزاحمتی ادب کا تاریخی پس منظر” کے موضوع پر خطاب کیا اور مزاحمتی ادب کی تاریخی روایت، اس کے فکری اثرات اور سماجی اہمیت پر جامع بحث پیش کی۔
سیمینار کے دوسرے حصے میں ایک غیر طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کی صدارت پروفیسر جاوید احساس نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر درویش آفریدی مہمانِ خصوصی جبکہ پروفیسر شکور اعزازی مہمان تھے۔ سحر نسیم نے میزبانی کے فرائض انجام دیے جبکہ نظامت ابشار آفریدی نے کی۔
سیمینار کے حوالے سے حال کے جنرل سیکریٹری موبین احساس نے بتایا کہ محکمہ اُمورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کے تعاون سے اس علمی نشست کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں سماجی اور سیاسی شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں حکومتی سرپرستی میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔
تقریب کے آخری مرحلے میں موسیقی کی محفل سجائی گئی، جس میں کلاسیکی کلام پیش کیے گئے۔ یہ نشست خوشگوار ادبی و ثقافتی ماحول میں رات گئے تک جاری رہی، جبکہ شرکاء نے پروگرام کو علاقے میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے خوش آئند قرار دیا۔
