قبائلی ضلع مہمند میں تعینات 73 نئے پیرامیڈیکس نے الزام عائد کیا ہے کہ دور دراز علاقوں میں فرائض انجام دینے کے باوجود انہیں گزشتہ سات ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی، جس کے باعث وہ شدید معاشی مشکلات اور ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تنخواہیں جاری کرکے انہیں فاقہ کشی سے بچایا جائے۔

یہ مطالبہ نئے تعینات پیرامیڈیکل اسٹاف کے نمائندوں ڈاکٹر محمد صادق، ذاکر اللہ، ضابط خان اور دیگر نے مہمند پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت ضلع مہمند نے میرٹ، ایٹا ٹیسٹ اور تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد 73 امیدواروں کی تقرری کے احکامات جاری کیے تھے، جن میں 68 مقامی امیدوار شامل ہیں جبکہ صرف پانچ امیدوار ضلع سے باہر کے ہیں۔ ان کے مطابق ضلع مہمند کی تاریخ میں پہلی بار مقامی امیدواروں کو اتنی بڑی تعداد میں ترجیح دی گئی۔

پیرامیڈیکس کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ سات ماہ سے مختلف دور افتادہ مراکز صحت میں او پی ڈی سمیت دیگر طبی خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم سیاسی انتقام اور بے بنیاد الزامات کی آڑ میں ان کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بھرتی مکمل طور پر ایٹا ٹیسٹ اور میرٹ کی بنیاد پر ہوئی ہے اور اس حوالے سے تمام دستاویزات اور ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشکل ترین حالات میں پولیو مہم سمیت ہر قسم کی صحت مہم میں خدمات سرانجام دینے کے باوجود انہیں اب تک تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ ملازمین کے مطابق ان میں سے اکثر کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے اور یہی تنخواہ ان کے گھروں کا واحد سہارا ہے، جبکہ مسلسل سات ماہ سے عدم ادائیگی کے باعث گھریلو نظام شدید متاثر ہو چکا ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر پیرامیڈیکس نے وزیر اعلیٰ، ڈی جی ہیلتھ، سیکرٹری ہیلتھ، ڈپٹی کمشنر مہمند، ڈی ایچ او مہمند اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ عیدالاضحیٰ سے قبل ان کی تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانونی تقرری کے باوجود تنخواہوں کی بندش کھلی ناانصافی اور ظلم کے مترادف ہے۔