ضلع بونیر کے نوجوان سماجی کارکن اور “دی وائس آف ایجوکیشن کمیٹی” کے بانی لقمان احمد گزشتہ ایک سال سے تعلیم کے فروغ اور تعلیمی شعور بیدار کرنے کے لیے عملی میدان میں سرگرم ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود ان کی کاوشیں ضلع بھر میں امید کی نئی کرن بن چکی ہیں۔
19 سالہ لقمان احمد کا تعلق گاؤں بامپوخہ سے ہے اور وہ یونیورسٹی آف بونیر کے شعبہ مینجمنٹ سائنسز کے فرسٹ سمسٹر کے طالبعلم ہیں۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں ذاتی کوششوں اور محدود وسائل کے باوجود پہلی عوامی لائبریری قائم کی، جسے علاقے میں علم و شعور کا پہلا باقاعدہ مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔
لقمان احمد کے اس اقدام سے متاثر ہوکر ضلع کے دیگر دیہاتوں میں بھی نوجوانوں نے پبلک لائبریریوں کے قیام کا آغاز کیا، جس سے علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کو نئی سمت ملی۔
تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی جدوجہد صرف لائبریری تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے ضلع بونیر میں آؤٹ آف اسکول بچوں کے مسئلے پر بھی بھرپور توجہ دی۔ لقمان احمد اور ان کی ٹیم نے ایک سال کے دوران 116 آؤٹ آف اسکول بچوں کو مختلف سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں داخل کروایا، جن میں یتیم، خصوصی افراد اور انتہائی غریب خاندانوں کے بچے بھی شامل ہیں۔
ان کے مطابق یہ مشن آج بھی جاری ہے اور مزید بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تعلیمی شعور اجاگر کرنے کے لیے “دی وائس آف ایجوکیشن کمیٹی” کے زیر اہتمام ضلع بھر میں 100 سے زائد جرگے، سیمینارز اور آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے، جن کا مقصد والدین اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
لقمان احمد اور ان کی ٹیم نے ضلع بونیر کی شرح خواندگی پر تحقیق بھی کی، جس کے مطابق ضلع کی مجموعی شرح خواندگی 43.75 فیصد ہے۔ مردوں کی شرح خواندگی 60.61 فیصد جبکہ خواتین کی شرح صرف 27.40 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ان کے مطابق کم شرح خواندگی کی بڑی وجوہات میں غربت، تعلیمی سہولیات کی کمی، ثقافتی رکاوٹیں، اساتذہ کی قلت اور دیہی علاقوں میں اسکولوں کی عدم دستیابی شامل ہیں۔ خصوصاً خواتین کی تعلیم کے حوالے سے روایتی سوچ اور سماجی رویے ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جہاں لڑکیوں کی تعلیم کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اسی طرح مالی مشکلات کے باعث متعدد بچے تعلیم ترک کرکے محنت مزدوری پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو مستقبل کے لیے ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
لقمان احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تمام تعلیمی اعداد و شمار اور زمینی حقائق ضلع کے سیاسی و سماجی رہنماؤں کے ساتھ بھی شیئر کیے تاکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ اس سلسلے میں نئے اسکولوں کی تعمیر، تعلیمی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی کمی پوری کرنے، تعلیمی منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کرنے اور والدین میں شعور بیدار کرنے سمیت مختلف تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
“دی وائس آف ایجوکیشن کمیٹی” کے بنیادی مقاصد میں ہر بچے تک معیاری تعلیم کی رسائی، آؤٹ آف اسکول بچوں کی دوبارہ تعلیمی نظام میں شمولیت، غریب و یتیم بچوں کی معاونت، تعلیمی آگاہی، لائبریریوں اور اسکالرشپس کا قیام، نوجوانوں کی رہنمائی اور ضلع بونیر کو تعلیم کے میدان میں ایک مثالی ضلع بنانا شامل ہے۔
لقمان احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت متعدد تعلیمی خدمات انجام دیں، مگر اب تک حکومتی سطح پر انہیں کوئی مؤثر تعاون یا سرپرستی حاصل نہیں ہو سکی۔
انہوں نے حکومت، محکمہ تعلیم، سماجی تنظیموں اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ ضلع بونیر میں تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور نوجوانوں کی ان کوششوں کی سرپرستی کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کی روشنی فراہم کی جا سکے۔
لقمان احمد کے مطابق ان کی تمام تعلیمی سرگرمیوں اور خدمات کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے، اور وہ مستقبل میں بھی اسی جذبے، خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ تعلیم کے فروغ کا مشن جاری رکھیں گے۔
