پاکستان بھر میں شدید گرمی کی لہر نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں کئی شہروں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی کی شدت اور دورانیہ دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بچے گرمی کی شدت کو برداشت کرنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کا جسم درجہ حرارت کو مؤثر انداز میں کنٹرول نہیں کر پاتا۔ اسی وجہ سے بخار، پانی کی کمی، کمزوری، چکر آنا اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک مسائل تیزی سے جنم لے سکتے ہیں۔
طبی ماہرین نے والدین کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو وقفے وقفے سے پانی پلایا جائے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ اس کے علاوہ بچوں کو ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہنائے جائیں تاکہ گرمی کا اثر کم ہو سکے۔
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ دوپہر کے اوقات میں بچوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نہ لے جائیں اور حتیٰ الامکان سایہ دار اور ٹھنڈی جگہوں پر رکھا جائے۔ نوزائیدہ بچوں کے لیے ماں کا دودھ نہایت اہم قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ گرمی میں جسمانی حفاظت اور غذائیت فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب سرکاری اداروں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے بھی ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم جاری ہے، تاہم ماہرین کے مطابق بچوں کی حفاظت میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی میں معمولی غفلت بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ بروقت احتیاط، مناسب پانی کا استعمال اور دھوپ سے بچاؤ ہی بچوں کو محفوظ رکھنے کا مؤثر طریقہ ہے۔ والدین کی ذمہ داری اور چوکسی اس شدید موسم میں بچوں کی زندگی بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
