اسلام آباد کا وہ پُرتعیش محل نما گھر، جو مشہور ڈرامہ "پری زاد" میں دکھائے جانے کے بعد عوامی توجہ کا مرکز بنا تھا، اب ایک بڑے مالی اسکینڈل کے باعث دوبارہ خبروں میں آ گیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ گھر کسی صنعتکار یا سیاسی شخصیت کا نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کے گریڈ 12 کے ہیڈ کلرک قیصر اقبال جدون کی ملکیت نکلا۔
یہ انکشاف مبینہ 40 ارب روپے کے کوہستان میگا اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا، جہاں نیب اور دیگر تحقیقاتی ادارے بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی اثاثوں کی چھان بین کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران قیصر اقبال جدون کے نام پر موجود قیمتی جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس اور غیر ملکی کرنسی کی تفصیلات سامنے آئیں، جنہوں نے حکام کو بھی حیران کر دیا۔
احتساب عدالت میں سرنڈر کیے گئے اثاثوں میں شامل ہیں:
• 56 کروڑ روپے نقد رقم
• ایک کلو سونا
• 5 لگژری گاڑیاں
• ہزاروں ڈالرز اور برطانوی پاؤنڈز
• اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں
• مجموعی طور پر 1 ارب 23 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد اثاثے
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مزید ایسے افراد کے نام بھی سامنے آنے کا امکان ہے جو اس مبینہ کرپشن نیٹ ورک کا حصہ رہے۔
اسلام آباد میں واقع یہ شاندار گھر اُس وقت عوامی توجہ کا مرکز بنا جب اسے مقبول ڈرامہ "پری زاد" کی شوٹنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین اس گھر کو کسی خفیہ کاروباری شخصیت یا بڑے سرمایہ دار کی ملکیت سمجھتے رہے، تاہم حالیہ تحقیقات نے سب کو حیران کر دیا۔
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایک سرکاری کلرک اتنے بڑے اثاثوں کا مالک بن سکتا ہے تو اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد کے اثاثے کتنے ہوں گے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس، قومی خزانے اور ترقیاتی منصوبوں پر ڈاکہ ہے۔
تحقیقاتی اداروں کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ احتساب عدالت میں مقدمے کی کارروائی بھی جاری ہے۔ حکام کے مطابق غیر قانونی اثاثوں کی مکمل تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب ممکن ہو سکے۔
