دنیا بھر میں ذہنی امراض میں تیزی سے اضافہ ایک سنگین عالمی خطرہ بنتا جا رہا ہے، تاہم پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں یہ مسئلہ ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات نہ صرف معاشرتی ڈھانچے بلکہ ملکی معیشت پر بھی گہرے اور دیرپا مرتب ہوں گے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد مختلف ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ ان میں بے چینی، ذہنی دباؤ اور افسردگی سب سے زیادہ عام بیماریاں ہیں، جو تیزی سے ہر عمر اور طبقے کے افراد کو متاثر کر رہی ہیں۔
پاکستان میں صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ مختلف تحقیقی مطالعات کے مطابق ملک میں ذہنی امراض کی شرح 22 فیصد سے 60 فیصد تک رپورٹ کی گئی ہے، جبکہ بعض سماجی طبقات میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ، بے روزگاری، مہنگائی، گھریلو تنازعات، سماجی عدم تحفظ اور مسلسل غیر یقینی صورتحال ذہنی بیماریوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
خیبر پختونخوا میں یہ بحران زیادہ شدت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے، جہاں دہشت گردی، بدامنی، نقل مکانی، غربت اور طویل سماجی دباؤ نے عوام کی نفسیاتی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خواتین، نوجوانوں اور بچوں میں ذہنی دباؤ اور افسردگی کے بڑھتے ہوئے رجحانات ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
عالمی اور مقامی اداروں کے مطابق پاکستان میں لاکھوں افراد فوری نفسیاتی مدد اور علاج کے محتاج ہیں، مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ذہنی صحت کی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔ ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ امراضِ ذہنی اور تربیت یافتہ کونسلرز کی تعداد آبادی کے تناسب سے نہایت کم ہے، جس کے باعث کروڑوں افراد مناسب علاج اور رہنمائی سے محروم ہیں۔
ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ذہنی امراض کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اکثر لوگ نفسیاتی مسائل کو کمزوری یا سماجی بدنامی سے جوڑتے ہیں، جس کے باعث مریض بروقت علاج حاصل نہیں کر پاتے۔ ماہرین کے مطابق شعور کی کمی اور منفی معاشرتی رویے اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ سرکاری سطح پر ذہنی صحت کے بجٹ میں اضافہ، ضلعی سطح پر نفسیاتی مراکز کا قیام، تعلیمی اداروں میں مؤثر کونسلنگ سسٹم، اور عوامی آگاہی مہمات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس خاموش بحران پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ معاشرتی بے چینی، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، جرائم اور معاشی زوال کی صورت میں مزید خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
ذہنی صحت کو اب صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترجیح کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
