جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کی تحصیل تنائی میں 13 سالہ بچے کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق تنائی کے پہاڑی علاقے سے 13 سالہ عمران کی لاش برآمد ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران دو روز قبل اپنے مویشیوں کی تلاش میں شام کے وقت پہاڑ کی جانب گیا تھا تاہم وہ واپس گھر نہ لوٹ سکا۔ اہل خانہ نے اگلے روز اس کی تلاش شروع کی تو پہاڑی علاقے سے اس کی لاش ملی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے جبکہ اسے پتھروں سے وار کر کے قتل کیا گیا۔ بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے جس سے واقعے کی سنگینی مزید واضح ہو گئی۔
واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین اور مقامی افراد نے تنائی میں احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معصوم بچے کے قتل میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں اور اس واقعے نے پورے علاقے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

ادھر تھانہ تنائی کے ایس ایچ او عثمان کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

دوسری جانب سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ سابق امیدوار صوبائی اسمبلی تاج محمد نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

ادھر عمران کے قتل کے خلاف تنائی میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں شہریوں اور لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔