خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی مسلسل کاوشوں اور مؤثر نمائندگی کے نتیجے میں حکومتِ خیبر پختونخوا نے کاروباری برادری کے ایک اہم مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے صوبائی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDC) کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 0.75 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ اعلان وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں کیا، جس میں صوبے بھر کے چیمبرز آف کامرس کے صدور، صنعتکاروں، تاجروں اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد یوسف آفریدی، گروپ لیڈر سید جواد حسین کاظمی، سینئر نائب صدر واجد علی شینواری، سیکرٹری جنرل علی فیصل سمیت مختلف چیمبرز کے نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر خیبر چیمبر کے صدر حاجی محمد یوسف آفریدی اور گروپ لیڈر سید جواد حسین کاظمی نے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس اور پروفیشنل ٹیکس کے باعث تاجروں اور صنعتکاروں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ ٹیکس شرح درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیاں اور کاروباری مسابقت متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر چیمبر گزشتہ ایک سال سے مختلف فورمز پر اس مسئلے کو اٹھاتا رہا ہے اور حکومت کو متعدد تجاویز و سفارشات بھی پیش کی گئیں تاکہ کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا سکے اور سرمایہ کاری و تجارت کے فروغ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔

کاروباری برادری کے تحفظات اور خیبر چیمبر کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اعلان کیا کہ آئندہ صوبائی بجٹ میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 0.75 فیصد کر دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تمام قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کر لیے گئے ہیں۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت پروفیشنل ٹیکس میں بھی نمایاں کمی لانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کی جائے گی تاکہ کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

خیبر چیمبر اور دیگر چیمبرز کے نمائندوں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کاروباری برادری کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تاجروں اور صنعتکاروں کا اعتماد بحال ہوگا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اجلاس کے دوران سابق فاٹا اور پاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں وفاقی حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس کے نفاذ اور سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات مقامی معیشت، صنعت اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر مختلف چیمبرز کے نمائندوں نے آئندہ صوبائی بجٹ کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں، جبکہ مشیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ کاروباری برادری کی قابلِ عمل سفارشات کو بجٹ میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تاجروں اور صنعتکاروں کے حقوق کے تحفظ، تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد آئندہ بھی جاری رکھے گا۔