لنڈی کوتل: افغانستان میں گزشتہ آٹھ ماہ سے پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز، ڈرائیوروں اور ان کی گاڑیوں کی وطن واپسی میں تاخیر کے خلاف خیبر تکیہ، لنڈی کوتل میں احتجاجی دھرنا شروع کر دیا گیا۔

احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسپورٹر رہنما رخمان زیب آفریدی نے کہا کہ سینکڑوں پاکستانی ٹرانسپورٹرز، ڈرائیور اور ان کی گاڑیاں گزشتہ آٹھ ماہ سے افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اتوار تک افغانستان میں موجود پاکستانی ڈرائیوروں اور گاڑیوں کو وطن واپسی کی اجازت نہ دی گئی تو ٹرانسپورٹرز پاک افغان شاہراہ ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کے ساتھ غیر معینہ مدت کا احتجاجی دھرنا بھی دیں گے۔

مظاہرین نے پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات کرتے ہوئے پھنسے ہوئے پاکستانی ٹرانسپورٹرز، ڈرائیوروں اور ان کی گاڑیوں کی جلد واپسی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آ سکیں۔

احتجاج میں شریک ٹرانسپورٹرز کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے افغانستان میں پھنسے رہنے کے باعث انہیں بھاری مالی نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ بھی شدید معاشی اور سماجی مشکلات سے دوچار ہیں۔

مظاہرین نے دونوں ممالک کی متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔