خیبر پختونخوا میں گرمیوں کی تعطیلات کے اعلان کے فوراً بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے سمر کیمپ کے انعقاد کا فیصلہ والدین، اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا رہا ہے۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد طلبہ کے تعلیمی نقصان کا ازالہ اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہے، لیکن زمینی حقائق اور موجودہ موسمی حالات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ فیصلہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

جون کا مہینہ صوبے کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث جانا جاتا ہے، جہاں درجہ حرارت اکثر 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے میں کم عمر طلبہ کو گھروں سے نکال کر اسکولوں تک لانا اور کئی گھنٹوں تک گرم اور حبس زدہ کمروں میں بٹھانا نہ صرف غیر موزوں بلکہ ان کی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران بچوں کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، بے ہوشی اور دیگر موسمی بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ صوبے کے بیشتر سرکاری تعلیمی ادارے آج بھی صاف پینے کے پانی، بلاتعطل بجلی اور مناسب وینٹیلیشن جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ جہاں بجلی موجود بھی ہے، وہاں طویل لوڈشیڈنگ معمول کا حصہ بن چکی ہے۔ نتیجتاً پنکھے بند رہتے ہیں اور کلاس رومز شدید گرمی اور حبس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بچوں سے مؤثر تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں لگتا۔

مزید یہ کہ صوبے کے متعدد پرائمری اسکول محدود عمارتوں اور کم کمروں پر مشتمل ہیں۔ کئی مقامات پر نرسری سے پانچویں جماعت تک کے طلبہ ایک ہی عمارت میں زیرِ تعلیم ہیں۔ شدید گرمی کے دوران ان محدود کمروں میں بچوں کا اجتماع نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کرتا ہے بلکہ صحت اور حفاظت کے حوالے سے بھی سنجیدہ خدشات پیدا کرتا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تعلیم کا بنیادی مقصد بچوں کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما ہے۔ اگر تعلیمی سرگرمیاں ہی بچوں کی صحت اور سلامتی کے لیے خطرہ بن جائیں تو ایسے اقدامات اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ سمر کیمپ بلاشبہ تعلیمی بہتری کا ایک مؤثر ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی منصوبہ بندی کرتے وقت موسمی حالات، دستیاب سہولیات اور طلبہ کی جسمانی استطاعت کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہے۔

والدین کی ایک بڑی تعداد کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں سمر کیمپ کے انعقاد کے بجائے گرمیوں کی تعطیلات کو ان کی اصل روح کے مطابق جاری رکھا جائے۔ اگر تعلیمی نقصان کے ازالے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو موسم میں بہتری کے بعد اضافی کلاسز، خصوصی تعلیمی سیشنز یا دیگر متبادل انتظامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح تعلیمی اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں گے اور بچوں کی صحت و حفاظت بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔

محکمہ تعلیم اور حکومتِ خیبر پختونخوا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ والدین، اساتذہ اور ماہرین کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیں گے اور اس فیصلے پر ازسرِنو غور کریں گے۔ ایک ذمہ دار ریاست اور مؤثر تعلیمی نظام کی اولین ترجیح بچوں کی جان، صحت اور مستقبل کا تحفظ ہونی چاہیے۔ تعلیمی اصلاحات اسی وقت کامیاب قرار دی جا سکتی ہیں جب وہ زمینی حقائق اور انسانی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کی تعلیم اور ان کی صحت کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا جائے، کیونکہ صحت مند بچے ہی ایک روشن، محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔