یونیورسٹی آف ہری پور میں ایک مبینہ غیر قانونی تقرری کے باعث حکومت کو دو کروڑ 26 لاکھ روپے سے زائد مالی نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ بات محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حالیہ آڈٹ میں سامنے آئی، جس میں تقرری اور ترقی کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ، جو انسپکشن آفیسر سید امین نے مرتب کی، کے مطابق میجر (ر) محمد اقبال کو 2013 میں کنٹریکٹ بنیادوں پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں مستقل بنیادوں پر نہ صرف تعینات کیا گیا بلکہ مختلف انتظامی عہدوں پر ترقی بھی دی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 21 اگست 2001 کے نوٹیفکیشن کے تحت ریٹائرڈ سول اور فوجی افسران کو صرف کنٹریکٹ بنیادوں پر دوبارہ ملازمت دی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس، یونیورسٹی انتظامیہ نے محمد اقبال کی تنخواہ گریڈ 18 کے 15ویں اسٹیج پر مقرر کی اور بعد ازاں انہیں گریڈ 19 میں ترقی دے کر ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کے عہدے پر فائز کر دیا۔
آڈٹ کے مطابق 2021 سے 2023 کے دوران مذکورہ افسر کو مجموعی طور پر 2 کروڑ 18 لاکھ روپے تنخواہ اور الاؤنسز کی مد میں ادا کیے گئے، جن میں سے 2 کروڑ 2 لاکھ روپے کی ادائیگی کو غیر مجاز قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں اس مالی بے ضابطگی کو کمزور داخلی کنٹرول سسٹم اور قواعد کی صریح خلاف ورزی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق یہ معاملہ جنوری 2024 میں متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا گیا، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے آڈٹ اعتراضات کا کوئی تسلی بخش جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ آڈٹ حکام نے سفارش کی ہے کہ معاملے کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی یقینی بنائی جائے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سرکاری جامعات میں گورننس، شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تقرریوں اور مالی معاملات کی سخت نگرانی اور مؤثر احتسابی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
