تحصیل جمرود میں مبینہ قبضہ مافیا کی فائرنگ سے قبیلے کے دو افراد زخمی ہوگئے۔ متاثرہ فریق، حاجی محمد علی شاہ خاندان کے مطابق ملزمان نے سیدھی فائرنگ کرتے ہوئے ان کے گروپ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

محمد علی شاہ فاطمہ خیل خاندان کا کہنا ہے کہ مبینہ سرغنہ اختر شیر اور اس کے ساتھیوں نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے ہوائی اور براہِ راست فائرنگ کی، جس سے علاقہ مکینوں میں شدید بے چینی پھیل گئی۔ فائرنگ کے دوران فاطمہ خیل قبیلے کی دو گاڑیوں کو بھی آگ لگائے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

متاثرہ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض مقامی پولیس افسران، ڈی پی او، ایس ایچ او اور ڈی آر سی اہلکار ملزمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جس کے باعث انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے اور تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو سکے۔

متاثرہ فریق کے مطابق نواب شیر، جو مبینہ ملزم اختر شیر کا چچازاد ہے، اس معاملے میں محمد علی فاطمہ خیل خاندان کے ساتھ کھڑا ہے۔