بالاکوٹ میں پیش آنے والے واقعے نے علاقے کی فضا سوگوار کر دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جاوید مہانڈری دو مارچ ، شام کے وقت حصہ کھوئی کے مقام پر چند قریبی دوستوں کے ہمراہ افطاری کے لیے موجود تھے کہ اسی دوران مبینہ طور پر شاہد نامی پولیس اہلکار وہاں پہنچا اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں جاوید مہانڈری شدید زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد موقع پر بھگدڑ مچ گئی جبکہ زخمی جاوید کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ بعض مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے بعد مقتول کی نعش کچھ وقت تک جائے وقوعہ پر موجود رہی اور پولیس کی آمد میں تاخیر ہوئی، جس پر شہریوں میں غم و غصہ پایا گیا۔

جاوید مہانڈری سوشل میڈیا پر اپنی مزاحیہ اور منفرد ویڈیوز کے باعث خاصی مقبولیت رکھتے تھے۔ انہیں علاقے میں ایک بے ضرر اور ہردلعزیز شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا، جس کی وجہ سے ان کی اچانک موت کی خبر نے لوگوں کو شدید صدمے سے دوچار کیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے شاہرہ کاغان کو مختلف مقامات پر بند کر کے ٹریفک معطل کر دی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حقائق سامنے لانے کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔