تحصیل جمرود میں ضم شدہ اضلاع کی زرعی ترقی کو تیز کرنے کے لیے محکمہ زراعت خیبر پختونخوا (توسیع) ضلع خیبر کے زیر اہتمام ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ضلع بھر سے تعلق رکھنے والے کسانوں اور زمینداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کے تحت اٹھایا گیا، جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ اور کاشتکاروں کی معاشی حالت کو مستحکم بنانا ہے۔
تقریب کے دوران کسانوں میں امرود، مالٹا، خوبانی اور ناشپاتی سمیت دیگر معیاری و سرٹیفائڈ پھلدار پودوں کے علاوہ زیتون کے پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس اقدام کا مقصد جدید باغات کے قیام کو فروغ دینا، زرعی پیداوار بڑھانا اور کاشتکاروں کی آمدن میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق باغات کے قیام کے خواہشمند افراد متعلقہ زرعی دفاتر میں درخواستیں جمع کرا سکیں گے، جس کے بعد زمین کا معائنہ، فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری اور منظوری کے بعد موزوں مقامات پر باغات لگائے جائیں گے۔
تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری زراعت دل نواز وزیر، ڈائریکٹر جنرل زراعت خیبر پختونخوا محمد نوید، ریجنل ڈائریکٹر سیڈ سرٹیفیکیشن عنایت اللہ خان، اسسٹنٹ کمشنر جمرود خیام ناصر، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) ضلع خیبر ضیاء السلام داوڑ، محکمہ زراعت کے افسران، مقامی سیاسی و سماجی شخصیات اور کسانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سیاسی نمائندوں میں وزیراعلیٰ کے نمائندہ شفیق آفریدی، تحصیل چیئرمین عظمت خان، پاکستان تحریک انصاف جمرود کے صدر اشتیاق آفریدی، چیئرمین عبدالمنان آفریدی اور گوہر آفریدی بھی شامل تھے۔
اپنے خطاب میں دل نواز وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کسانوں کی خوشحالی اور زرعی خودکفالت کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور ضم شدہ اضلاع میں زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معیاری بیج و پودوں کی فراہمی، تکنیکی رہنمائی اور جدید زرعی طریقہ کار کے فروغ کے ذریعے کاشتکاروں کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جائے گا۔
ڈائریکٹر جنرل زراعت محمد نوید اور ضیاء السلام داوڑ نے بھی جاری اسکیموں، جدید باغبانی کے فروغ، سرٹیفائڈ پودوں کی فراہمی اور کسانوں کو تکنیکی معاونت سے متعلق اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر میں زرعی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ کاشتکار پائیدار بنیادوں پر معاشی استحکام حاصل کر سکیں۔
تقریب کے اختتام پر کسانوں میں پودوں کی باقاعدہ تقسیم کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ زرعی ترقی، جدید باغبانی اور شجرکاری کے فروغ کے ذریعے نہ صرف معاشی خودکفالت کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ فوڈ سیکیورٹی اور ماحولیاتی بہتری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شجرکاری قیمتی پھلوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صدقۂ جاریہ بھی ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک ماحول دوست اور پائیدار سرمایہ ثابت ہوگا۔
