ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے، اور ہنرمند افراد اس شناخت کے حقیقی محافظ ہوتے ہیں۔ ان کی محنت نہ صرف ان کے لیے روزگار کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ صدیوں پر محیط روایات اور تاریخی ورثے کی حفاظت کا سبب بھی بنتی ہے۔ ضلع سوات کی تحصیل چارباغ کی مشہور روایتی ٹوپیاں اسی قیمتی ثقافتی ورثے کی ایک درخشاں مثال ہیں، جو محنت، مہارت اور روایت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہیں۔

چارباغ کی یہ ٹوپیاں ماضی میں بے حد مقبول تھیں۔ مقامی افراد کے مطابق دور دراز علاقوں سے لوگ اس ہنر کو دیکھنے اور سراہنے آتے تھے۔ یہ فن صدیوں پرانا ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے، جس نے اس علاقے کو ایک منفرد پہچان عطا کی۔

چارباغ کے کاریگر عبدالوحید کے مطابق یہ روایت علاقے کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ ہنر اُس دور سے جاری ہے جب سوات میں بجلی بھی دستیاب نہیں تھی۔ اس زمانے میں کاریگر پاؤں سے چلنے والی مشینوں کے ذریعے ٹوپیاں تیار کرتے تھے۔ ان کے مطابق برطانیہ کی ملکہ ملکہ الزبتھ دوم بھی اس فن کو دیکھنے سوات آئیں اور روایتی ٹوپیاں اپنے ساتھ انگلینڈ لے گئیں۔ اس دور میں نہ صرف ملک کے مختلف حصوں بلکہ بیرونِ ملک سے بھی لوگ اس ہنر کی قدر کرتے تھے۔

تحصیل چارباغ کے علاقے دکوڑک سے تعلق رکھنے والی ہنرمند شمیم کے مطابق یہ کام ان کے روزگار کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔ وہ گزشتہ بارہ برس سے ٹوپیوں پر نقش و نگار اور کڑھائی کا کام کر رہی ہیں۔ اس آمدنی سے وہ اپنے گھر کے اخراجات اور بچوں کی ضروریات پوری کرتی رہی ہیں، تاہم گزشتہ دو برسوں میں آرڈرز میں نمایاں کمی کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک اور کاریگر عصمت کے مطابق ماضی میں ان ٹوپیوں کی طلب بہت زیادہ تھی، جس سے کام کی فراوانی رہتی تھی۔ مگر 2007 میں علاقے کے خراب حالات اور حالیہ پاک۔افغان تجارت میں پابندیوں کے باعث یہ ہنر زوال کا شکار ہو گیا۔ ان کے بقول تقریباً 80 فیصد ٹوپیاں افغانستان بھیجی جاتی تھیں، جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملتا تھا۔ مزید برآں نئی نسل میں روایتی ٹوپی پہننے کا رجحان کم ہونے سے بھی اس فن کو نقصان پہنچا ہے۔

ماضی میں چارباغ میں کاریگروں کی دکانیں عام تھیں اور ہر کاریگر کے ساتھ پچاس سے ساٹھ خواتین کام کرتی تھیں۔ مرد سادہ ٹوپیاں تیار کرتے جبکہ خواتین ان پر خوبصورت کڑھائی اور دلکش نقش و نگار بناتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ کئی کاریگروں نے یہ پیشہ ترک کر دیا، جس سے متعدد خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا۔

مقامی کاریگروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام زیادہ تر اپنی مدد آپ کے تحت کرتے رہے ہیں۔ اگر حکومتی سرپرستی، مالی معاونت اور مؤثر مارکیٹنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں تو اس قدیم ہنر کو دوبارہ عروج مل سکتا ہے۔ ان کے مطابق مناسب رہنمائی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ حکمت عملی اختیار کی جائے تو یہ فن نہ صرف محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔