دنیا بھر میں آج جنگلی حیات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ کو فروغ دینا اور ان کے بڑھتے ہوئے شکار کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

رواں سال اس دن کا موضوع ہے:
’’خوشبودار اور طبی طور پر فائدہ مند پودے: ہماری صحت، ثقافت اور معاشی تحفظ کے لیے ناگزیر‘‘۔

جنگلی حیات صرف قدرتی حسن کا آئینہ نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کی بنیاد بھی ہے، اور اس کی حفاظت ہماری بقا کی ضمانت ہے۔ لیکن بدلتا ہوا موسم، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بے ترتیب بارشیں اس کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کئی نایاب نسلیں معدومیت کے کنارے پر پہنچ چکی ہیں۔ پگھلتے گلیشیئرز، جنگلات میں بھڑکتی آگ اور پانی کی شدید قلت نے جانوروں کے قدرتی مسکن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وہ زمین جو کبھی محفوظ پناہ گاہ تھی، آج تیزی سے غیر محفوظ اور خطرناک بنتی جا رہی ہے۔

ماہر ماحولیات آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت جنگلی حیات کے توازن کو بگاڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ ہماری زندگی کی ضمانت ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ جنگلی حیات بھی اس کے اثرات سے متاثر ہو رہی ہے۔ اگر ہم آج ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے، تو آنے والی نسلیں ان خوبصورت مخلوقات کو صرف تصویروں اور کتابوں میں دیکھ سکیں گی، اور ان کی خوشبو، آواز اور زندگی کی رونق کبھی محسوس نہ کر سکیں گی۔

ماہر ماحولیات مریم شبیر کہتی ہیں کہ جنگلی حیات ہماری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ اس سال کا تھیم نہایت خوبصورت ہے کیونکہ خوشبودار اور طبی پودے ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کئی بیماریوں کا علاج ممکن بناتے ہیں۔

قدرت کا حسن صرف پہاڑوں اور دریاؤں میں نہیں، بلکہ ان میں بسنے والی جنگلی حیات میں بھی چھپا ہے۔ آئیں، جنگلی حیات کے عالمی دن پر عہد کریں کہ ہم ان جانوروں اور پودوں کے مسکن کا تحفظ کریں، کیونکہ ان کا وجود، ہمارا وجود ہے۔