خیبر پختونخوا کے محکمۂ جیل خانہ جات نے عوامی رابطے اور شفاف طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلی بار ای۔کچہری کا انعقاد کیا۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، جناب ریحان خٹک، نے فیس بک لائیو، واٹس ایپ اور لینڈ لائن کے ذریعے عوام سے براہِ راست گفتگو کی اور ان کے مسائل سنے۔ یہ اقدام انتظامی جدت کے ساتھ ساتھ شہریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کی بحالی کی سنجیدہ کوشش بھی ہے۔

روایتی طور پر جیل انتظامیہ تک براہِ راست رسائی عام شہریوں خصوصاً قیدیوں کے اہلِ خانہ کے لیے آسان نہیں رہی۔ فاصلے، انتظامی پیچیدگیاں اور معلومات کی کمی شکایات کے بروقت ازالے میں رکاوٹ بنتی رہی ہیں۔ ای کچہری نے ان رکاوٹوں کو بڑی حد تک کم کرتے ہوئے عوام کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ بغیر کسی واسطے کے اپنی بات اعلیٰ انتظامی سطح تک پہنچا سکیں۔

اس ڈیجیٹل نشست کے دوران قیدیوں کے اہلِ خانہ اور دیگر شہریوں نے ملاقات کے طریقۂ کار، قیدیوں کی فلاح و بہبود، قانونی امور اور انتظامی معاملات سے متعلق سوالات اور شکایات پیش کیں۔ انسپکٹر جنرل نے موقع پر رہنمائی فراہم کی، متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں اور متعدد امور پر فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ مزید برآں، صوبے کے پانچوں ریجنز میں آئندہ وارڈرز کی بھرتیوں سے متعلق طریقۂ کار، اہلیت اور دیگر انتظامی پہلوؤں پر اٹھائے گئے سوالات کے جامع اور وضاحتی جوابات بھی دیے گئے۔ اس براہِ راست مکالمے نے نہ صرف انفرادی مسائل کے حل کی راہ ہموار کی بلکہ جیل نظام سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے میں بھی مدد دی۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ عوامی سطح پر اس اقدام کو مثبت انداز میں سراہا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جیل نظام میں مؤثر اور قابلِ رسائی شکایتی نظام کی اشد ضرورت موجود ہے۔ خصوصاً دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سہولت، شفافیت اور اعتماد کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔

تاہم اس اقدام کی اصل کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب اسے مستقل بنیادوں پر ادارہ جاتی شکل دی جائے۔ ماہانہ یا دوماہانہ بنیادوں پر ای۔کچہری کا انعقاد عوامی رابطے کو تسلسل فراہم کر سکتا ہے۔ مزید برآں، ایک باقاعدہ ڈیجیٹل شکایتی سیل کا قیام ناگزیر ہے جو موصول ہونے والی شکایات کا اندراج، نگرانی اور بروقت ازالہ یقینی بنائے۔ شکایات کی آن لائن ٹریکنگ، رہنما ہدایات اور معلوماتی مواد پر مشتمل جامع ویب پورٹل اس نظام کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔

ضلعی سطح پر سپرنٹنڈنٹس کو بھی اسی طرز کی نشستوں کے انعقاد کی ترغیب دی جانی چاہیے تاکہ نچلی سطح تک رسائی ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کارکردگی جانچنے کے لیے واضح اشاریے مقرر کیے جائیں جیسے شکایات کے حل کی مدت، عوامی اطمینان کی سطح اور انتظامی بہتری کے عملی نتائج۔ افسران اور عملے کی ڈیجیٹل تربیت بھی اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی جانب سے ای۔کچہری کا انعقاد ایک مثبت اور اصلاحی قدم ہے جو روایتی دفتری طرزِ عمل سے ہٹ کر جوابدہ اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ حکمرانی کی سمت پیش رفت کی علامت ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت اور عزم موجود ہو تو ریاستی ادارے خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔

صوبائی حکومت اور محکمۂ جیل خانہ جات کے لیے ضروری ہے کہ اس عمل کو اصلاحات کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔ شفافیت، جوابدہی اور عوامی شمولیت کو مستقل بنیادوں پر فروغ دیا جائے تاکہ جیل نظام نہ صرف انتظامی طور پر مضبوط ہو بلکہ انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تقاضوں پر بھی پورا اتر سکے۔

اگر اس اصلاحی سفر کو تسلسل اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھا گیا تو خیبر پختونخوا کا جیل نظام دیگر صوبوں کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے، جہاں شفافیت اور عوامی اعتماد محض دعوے نہیں بلکہ عملی حقیقت ہوں گے۔