ضلع خیبر میں حالیہ پاک افغان کشیدگی کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں قائم 37 سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو تاحکمِ ثانی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات اور سرحدی صورتحال کے باعث کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق تحصیل لنڈیکوتل کے سرحدی علاقوں میں واقع طلبہ و طالبات کے تمام متعلقہ سکولوں کو فوری طور پر بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بند کیے گئے اداروں میں طلبہ کے 29 اور طالبات کے 8 سکول شامل ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ تمام تعلیمی ادارے لنڈیکوتل، بازار زخہ خیل اور شلمان کے علاقوں میں واقع ہیں، جو سرحد کے قریب ہونے کے باعث حساس قرار دیے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ضلعی محکمہ تعلیم کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیزی اور موجودہ سرحدی کشیدگی کے باعث یہ اقدام طلبہ، طالبات اور اساتذہ کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حالات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، اور جیسے ہی صورتحال میں بہتری آئے گی، تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق نیا فیصلہ کیا جائے گا۔
