دو روز سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے پر سرحد پار دراندازی اور شدت پسند عناصر کی موجودگی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ بعض سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور سیکیورٹی جھڑپوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر سرحدی نگرانی اور چیکنگ کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت اس سے قبل غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق پالیسی کا اعلان کر چکی ہے، جس کے تحت بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ سرحدی اضلاع، خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنا دیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی تناظر میں ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں پولیس نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پچاس سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایس ایچ او صدیق خان اور ایڈیشنل ایس ایچ او نعیم خان آفریدی کی قیادت میں عمل میں لائی گئی۔ پولیس ٹیموں نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو حراست میں لیا۔

گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے حوالات منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد زیرِ حراست افراد کو ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اس نوعیت کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔