لنڈی کوتل (خیبر ضلع) کا مرکزی بازار پاک افغان تجارت کی مسلسل بندش کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ تین ہزار سے زائد دکانوں اور تجارتی مراکز پر مشتمل اس مارکیٹ سے پندرہ ہزار سے زیادہ افراد کا روزگار وابستہ ہے، مگر طورخم بارڈر کی بندش نے کاروباری سرگرمیوں کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔
مقامی تاجروں کے مطابق سرحدی راستہ بند ہونے کے بعد کاروبار میں اسی فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ماضی میں روزانہ سینکڑوں افغان تاجر اور خریدار یہاں آتے تھے جس سے خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہتا تھا، تاہم اب بازار سنسان دکھائی دیتا ہے اور دکانوں پر گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔
سرحدی تجارت کی بندش کے اثرات صرف دکانداروں تک محدود نہیں رہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر سے وابستہ ہزاروں افراد — جن میں ٹرک ڈرائیورز، کلینرز، لوڈنگ و ان لوڈنگ مزدور اور کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس شامل ہیں — شدید متاثر ہوئے ہیں۔ درآمدات و برآمدات معطل ہونے سے مال برداری کا نظام بھی تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے۔
لنڈی کوتل اور طورخم کے اطراف قائم ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور چائے خانوں کی آمدنی بھی نمایاں حد تک کم ہو گئی ہے، کیونکہ مسافروں اور تاجروں کی آمد و رفت رک چکی ہے۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ معاشی بدحالی نے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، کئی خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں جبکہ بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات برداشت کرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔
تاجروں اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک افغان تجارت کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور سرحد کو مستقل بنیادوں پر کھلا رکھا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کی معیشت کو سہارا مل سکے اور بے روزگار افراد کو دوبارہ روزگار میسر آ سکے۔
