محکمہ اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز خیبر پختونخوا نے یونیورسٹی آف ہری پور کے حالیہ سلیکشن بورڈ اجلاسوں میں مبینہ اقربا پروری، جانبداری اور طریقۂ کار کی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
یونیورسٹی ملازمین کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو ارسال کیے گئے خط میں میرٹ کی مبینہ پامالی اور اقربا پروری کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ صوبائی حکومت نے ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی باقاعدہ چھان بین کا فیصلہ کیا۔
انکوائری کا دائرہ کار
سرکاری اعلامیے کے مطابق انکوائری کا مقصد حقائق کا تعین کرنا، تقرریوں کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا اور یہ جانچنا ہے کہ آیا یونیورسٹی انتظامیہ نے تقرریوں کے دوران یونیورسٹی ایکٹ، متعلقہ قواعد و ضوابط اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کیا یا نہیں۔
تین رکنی کمیٹی
تین رکنی کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل سیکرٹری (یونیورسٹیز) محمد فاروق کریں گے، جبکہ ڈپٹی سیکرٹری (یونیورسٹیز) اظہر ظہور اور ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے رجسٹرار کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
ریکارڈ کی جانچ پڑتال
اعلامیے کے مطابق کمیٹی سلیکشن بورڈ سے متعلق تمام ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے گی، جس میں شامل ہیں:
- آسامیوں کے اشتہارات
- اہلیت کا معیار
- شارٹ لسٹنگ کا طریقۂ کار
- انٹرویوز کی کارروائی
- امیدواروں کو دیے گئے نمبروں کی تقسیم
- فیصلوں کی توثیق
اس کے علاوہ ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ، بیرونی اثر و رسوخ یا کسی بھی غیر ضروری مداخلت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
رپورٹ مقررہ مدت میں پیش کی جائے گی
حکام کے مطابق کمیٹی اپنی رپورٹ مقررہ مدت میں حکومت کو پیش کرے گی۔ رپورٹ کی روشنی میں ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں میرٹ، شفافیت اور احتساب کے اصولوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
