نیشنل الائنس برائے پائیدار تمباکو و نکوٹین کنٹرول نے حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے میں زیرِ التوا دھواں سے پاک قانون سازی کو فوری طور پر منظور کیا جائے اور تمباکو کنٹرول سے متعلق موجودہ قوانین پر مؤثر اور سخت عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی صحت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
الائنس کے مطابق تمباکو نوشی کی ممانعت اور غیر تمباکو نوش افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈیننس کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی اور غیر تمباکو نوش افراد کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر قانونی فریم ورک موجود ہے، تاہم اس پر عملدرآمد نہایت کمزور ہے۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی، فروخت کے مقامات پر تشہیر، اور کم عمر بچوں کو تمباکو مصنوعات کی فروخت جیسے قوانین کی خلاف ورزیاں مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث بدستور جاری ہیں۔ الائنس نے زور دیا کہ تمباکو سے متعلق جاری شدہ حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور فروخت و تشہیر کے نظام کو مزید سخت اور منظم کیا جائے۔
پاکستان نے 2005 میں عالمی ادارۂ صحت کے تمباکو کنٹرول سے متعلق فریم ورک معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے تمباکو کے استعمال میں کمی، اشتہارات و سرپرستی پر پابندی، اور شہریوں کو بالواسطہ دھوئیں سے تحفظ فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ تاہم ابھرتی ہوئی نکوٹین مصنوعات، جیسے برقی سگریٹس، ویپس، نکوٹین پاؤچز اور گرم تمباکو آلات، واضح ضابطہ کار کے بغیر مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ ان مصنوعات کی بے قابو فروخت نوجوانوں، خواتین اور بچیوں میں نکوٹین کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سبب بن رہی ہے، جو نہایت تشویشناک امر ہے۔
الائنس نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نکوٹین مصنوعات کے جامع اور واضح ضابطے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے، بین الصوبائی تعاون کو مضبوط بنایا جائے اور عملدرآمد کے موجودہ خلا کو فوری طور پر پُر کیا جائے۔ ساتھ ہی حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تمباکو کنٹرول کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا جائے اور ایک باقاعدہ ترقیاتی منصوبہ متعارف کرایا جائے، تاکہ نگرانی، عملدرآمد اور آگاہی پروگراموں کو مستقل بنیادوں پر ادارہ جاتی شکل دی جا سکے۔
الائنس کے شریک کنوینر اور سول سوسائٹی کارکن عثمان آفریدی نے کہا کہ دھواں سے پاک قانون سازی میں تاخیر اور نئی نکوٹین مصنوعات کو مؤثر طور پر ضابطے میں نہ لانا عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں مضبوط سیاسی عزم، مؤثر نگرانی کا نظام اور مخصوص فنڈنگ ناگزیر ہیں۔
نوجوان کارکن الوین جاوید نے کہا کہ تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کی آسان دستیابی نوجوانوں میں لت کے رجحان کو تیزی سے بڑھا رہی ہے، جبکہ خواتین اور بچیوں میں اس کا بڑھتا ہوا استعمال انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر رہا ہے۔
سندھ کے رابطہ کار احسان علی کھوسہ نے کہا کہ پاکستان کے عالمی وعدوں کی تکمیل اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر مربوط، جامع اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
