ضلع بٹگرام کے گاؤں بلندکوٹ میں قائم بنیادی مرکزِ صحت (بی ایچ یو) ایک ایسی سرکاری طبی سہولت ہے جہاں عمارت اور طبی عملہ تو موجود ہیں، لیکن دشوار گزار راستے کے باعث مقامی آبادی کے لیے وہاں پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ عام صحت مند افراد کے لیے بھی ہسپتال تک رسائی آسان نہیں، جبکہ حاملہ خواتین اور دیگر مریضوں کے لیے یہ سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

مقامی آبادی کے مطابق، ہسپتال تک رسائی کے لیے مناسب سڑک نہ ہونے کے باعث انہیں علاج کی غرض سے دور دراز علاقوں اور شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں انہیں سفری مشکلات کے ساتھ بھاری مالی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

تین کروڑ روپے سے زائد لاگت، مگر رسائی کا مسئلہ برقرار

مقامی ذرائع کے مطابق، بی ایچ یو بلندکوٹ کی تعمیر 2010 میں حکومتِ جاپان کے تعاون سے مکمل ہوئی۔ ضلع بٹگرام میں جاپانی تعاون سے دیگر طبی مراکز بھی تعمیر کیے گئے، تاہم بلندکوٹ کے اس مرکزِ صحت کی تعمیر کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا گیا جہاں نہ مناسب سڑک موجود تھی اور نہ ہی قریب کوئی بڑی آبادی آباد تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے پر تین کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی۔ دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث تعمیراتی سامان خچروں اور دیگر متبادل ذرائع، بشمول پائپوں کے ذریعے، تعمیراتی مقام تک پہنچایا گیا۔

یہ مرکز ایک تنگ اور دشوار گزار پہاڑی درے میں واقع ہے، جہاں دن کے وقت بھی روشنی محدود محسوس ہوتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، سردیوں میں برف باری کے باعث یہاں آمدورفت مزید مشکل ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے عام افراد بھی اس راستے سے گزرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

کاغذوں میں فعال، مگر مریضوں کی آمد نہ ہونے کے برابر

سرکاری ریکارڈ کے مطابق، مرکزِ صحت فعال ہے اور وہاں طبی عملے سمیت لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی تعینات ہیں۔ تاہم، رسائی میں مشکلات کے باعث ہسپتال سے عوامی استفادے کا معاملہ ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔

یہاں تعینات ڈاکٹروں کے مطابق، وہ روزانہ ڈیوٹی پر آتے ہیں، لیکن مریضوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مرکزِ صحت میں طبی سہولیات اور خواتین کے علاج کے لیے ڈاکٹر کی موجودگی کے باوجود دشوار گزار راستہ مریضوں کو یہاں پہنچنے سے روکتا ہے۔

اس صورتحال میں خصوصاً حاملہ خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جنہیں طبی معائنے، زچگی اور دیگر ضروری علاج کے لیے دور دراز شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

’ہسپتال تک صحت مند آدمی نہیں پہنچ سکتا، مریض کیسے جائے گا؟‘

بلندکوٹ کے ایک مقامی رہائشی راشد (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے کبھی کسی مریض کو اس ہسپتال کی طرف جاتے نہیں دیکھا۔

راشد کے مطابق، جب ایک صحت مند شخص کے لیے بھی مرکزِ صحت تک پہنچنا مشکل ہے تو بیمار افراد اور حاملہ خواتین کے لیے وہاں جانا کس قدر دشوار ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

وہ کہتے ہیں، ”جب بھی میں اپنے گھر والوں کو علاج کے لیے ہسپتال لے کر جاتا ہوں تو 15 سے 20 ہزار روپے تک خرچ ہو جاتے ہیں، جبکہ آمدورفت کے اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔“

راشد کا خیال ہے کہ ہسپتال کی موجودہ جگہ کا انتخاب چند افراد کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے مقامی آبادی ایک بنیادی طبی سہولت سے محروم ہو گئی ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ان کے مطابق، یا تو مرکزِ صحت کو آبادی کے قریب کسی مناسب جگہ منتقل کیا جائے یا موجودہ مقام تک سڑک تعمیر کی جائے تاکہ مقامی افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

منتقلی کی کوششیں ہوئیں، مگر معاملہ آگے نہ بڑھ سکا

مرکزِ صحت میں تعینات ایک ڈاکٹر کے مطابق، ہسپتال کو آبادی کے قریب منتقل کرنے کے لیے ماضی میں بھی کوششیں کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ہسپتال کی منتقلی کے لیے یقین دہانی کرائی تھی۔

ڈاکٹر کے مطابق، اس سلسلے میں ایک غیر فعال اسکول کی عمارت بھی دیکھی گئی تھی، جس کے مالکان اسے مرکزِ صحت کے لیے دینے پر آمادہ تھے۔ تاہم، ان کے بقول، جب منتقلی کی یہ تجویز منظرِ عام پر آئی تو سیاسی مداخلت کے باعث معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔

یہ معاملہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ اگر کسی سرکاری طبی مرکز تک عام شہریوں کی رسائی ممکن نہ ہو تو اس کی فعالیت اور افادیت کو کس بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔

نوجوان ڈاکٹر کی صلاحیتیں بھی محدود

ڈاکٹر غضنفر، جنہوں نے حال ہی میں ایم بی بی ایس مکمل کیا ہے، رواں سال جولائی میں بی ایچ یو بلندکوٹ میں تعینات ہوئے۔ ان کے لیے یہ پہلی تعیناتی ہے، تاہم مریضوں کی عدم موجودگی اور عوام کی مشکلات کے باعث وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔

دوسری جانب، مقامی افراد کو علاج کے لیے نجی ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے، جہاں انہیں علاج کے اخراجات کے ساتھ سفر پر بھی خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔

حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

بی ایچ یو بلندکوٹ کا معاملہ محض ایک ہسپتال کی عمارت یا سڑک کی عدم موجودگی کا مسئلہ نہیں، بلکہ بنیادی صحت کی سہولیات تک عوام کی رسائی سے جڑا ایک اہم سوال ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام مرکزِ صحت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں اور مقامی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل حل نکالیں۔ ہسپتال تک سڑک کی تعمیر، اسے آبادی کے قریب منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ اور حاملہ خواتین سمیت ہنگامی مریضوں کے لیے قابلِ رسائی طبی سہولیات کی فراہمی اس مسئلے کے ممکنہ حل ہو سکتے ہیں۔

بلندکوٹ کے عوام کے لیے اصل ضرورت صرف ایک فعال ہسپتال نہیں، بلکہ ایسی طبی سہولت ہے جہاں وہ بروقت اور محفوظ طریقے سے پہنچ سکیں۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی سرکاری ہسپتال تک پہنچنا ہی ممکن نہ ہو تو اس کی موجودگی عوام کے لیے کس قدر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟