لنڈی کوتل پریس کلب میں نقاب پوش افراد کے اچانک داخلے اور عمارت کے مختلف کمروں کی مبینہ تلاشی کے واقعے پر مقامی صحافیوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صحافیوں نے واقعے کو صحافتی آزادی، پیشہ ورانہ خودمختاری اور پریس کلب کے تقدس کے حوالے سے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات اور کارروائی کی وجوہات واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق، شام تقریباً 7 بج کر 30 منٹ کے بعد بعض نقاب پوش افراد لنڈی کوتل پریس کلب میں داخل ہوئے۔ ان افراد نے مبینہ طور پر خود کو پولیس اہلکار ظاہر کیا اور عمارت کے مختلف کمروں کی جانچ پڑتال کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔
تاہم، تاحال ان افراد کی شناخت، پریس کلب میں داخلے کے مقصد اور تلاشی کے قانونی جواز کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صحافتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
صحافیوں کے مطابق، واقعے سے متعلق ایس ایچ او لنڈی کوتل کو بھی آگاہ کیا گیا، تاہم انہوں نے مبینہ طور پر اس کارروائی سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اگر یہ مؤقف درست ہے تو متعلقہ پولیس اور ضلعی حکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاملے کی وضاحت کریں اور معلوم کریں کہ آیا یہ کارروائی کسی مجاز افسر کے حکم پر کی گئی تھی یا نہیں۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ پریس کلب محض ایک عمارت نہیں بلکہ عوامی مسائل اجاگر کرنے، مظلوموں اور متاثرین کی آواز حکام تک پہنچانے اور شہریوں کو اظہارِ رائے کا پلیٹ فارم فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ ایسے مقام پر نقاب پوش افراد کا اچانک داخل ہونا، خصوصاً جب ان کی شناخت اور کارروائی کی وجوہات واضح نہ ہوں، صحافیوں میں عدم تحفظ اور خدشات پیدا کر سکتا ہے۔
صحافتی حلقوں کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے فرائض انجام دینے کا اختیار حاصل ہے، تاہم اس اختیار کا استعمال آئین، قانون اور مقررہ ضابطۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر پریس کلب میں تلاشی کسی قانونی ضرورت کے تحت لی گئی تھی تو متعلقہ حکام کو اس کا قانونی جواز، مجاز اتھارٹی اور طریقۂ کار واضح کرنا چاہیے۔
لنڈی کوتل پریس کلب کے صحافیوں نے صوبائی حکومت، گورنر خیبر پختونخوا، متعلقہ ضلعی و پولیس حکام، ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل اور ملک بھر کی صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر پریس کلب میں داخل ہونے والے افراد کی شناخت کی جائے، دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ کارروائی کس کے حکم پر اور کس قانونی بنیاد پر کی گئی۔
صحافیوں نے مزید کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران قانون یا مقررہ ضابطۂ کار کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور صحافتی اداروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات بھی کیے جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صحافت کو خوف، دباؤ اور غیر واضح کارروائیوں سے محفوظ رکھنا ایک جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ قانون کی حکمرانی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب ریاستی ادارے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے شفافیت، جواب دہی اور آئینی حدود کا احترام کریں۔
آئینِ پاکستان اور مجموعہ ضابطۂ فوجداری 1898 کی متعلقہ دفعات اس نوعیت کے واقعات کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے اہم ہیں۔ تاہم، دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر قرار نہیں دیا جا سکتا کہ مبینہ تلاشی غیر قانونی تھی۔ اس کے لیے کارروائی کے اصل حالات، متعلقہ احکامات اور دستیاب دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے تحفظ اور قانون کے مطابق سلوک کا حق دیتا ہے۔ اس اصول کے تحت کسی بھی سرکاری اقدام کے لیے قانونی اختیار اور متعلقہ قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔ اگر پریس کلب میں تلاشی لی گئی تو متعلقہ حکام کو واضح کرنا چاہیے کہ کارروائی کس قانونی اختیار کے تحت کی گئی اور اس کی قانونی بنیاد کیا تھی۔
آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیٔ اظہار اور پریس کی آزادی فراہم کرتا ہے، تاہم یہ حقوق آئین میں بیان کردہ قانونی پابندیوں کے تابع ہیں۔ کسی صحافتی ادارے میں قانونی بنیاد پر کارروائی ہونا بذاتِ خود لازماً آزادیٔ صحافت کی خلاف ورزی نہیں، لیکن اگر یہ ثابت ہو کہ کارروائی کا مقصد صحافیوں کو ہراساں کرنا، ان کی رپورٹنگ میں رکاوٹ ڈالنا یا انہیں عوامی مسائل اجاگر کرنے سے روکنا تھا تو یہ آزادیٔ صحافت کے حوالے سے سنگین آئینی سوالات پیدا کر سکتا ہے۔
آرٹیکل 19-A شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے، جو قانون کے تحت مقررہ پابندیوں کے تابع ہے۔ متعلقہ حکام سے یہ وضاحت طلب کی جا سکتی ہے کہ پریس کلب میں داخل ہونے والے افراد کون تھے، کارروائی کس افسر کے حکم پر کی گئی اور اس کی قانونی بنیاد کیا تھی۔ تاہم، قانون کے تحت مستثنیٰ یا حساس تفتیشی معلومات تک رسائی پر پابندیاں لاگو ہو سکتی ہیں۔
آئین کا آرٹیکل 14 انسانی وقار کو ناقابلِ پامالی قرار دیتا ہے اور قانون کے تابع گھر کی رازداری کا تحفظ کرتا ہے۔ پریس کلب ایک پیشہ ورانہ اور عوامی اہمیت کا حامل ادارہ ہے، اس لیے اسے خودبخود گھر کے مساوی قانونی تحفظ حاصل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، وہاں موجود افراد کے وقار، ذاتی سامان اور نجی معلومات کے تحفظ سے متعلق کسی مبینہ خلاف ورزی کا جائزہ متعلقہ قانون کے تحت لیا جا سکتا ہے۔
ضابطۂ فوجداری 1898 کی دفعات 96، 102، 103 اور 165 تلاشی، متعلقہ اختیارات اور طریقۂ کار کے مختلف پہلوؤں سے متعلق ہیں۔ دفعہ 96 مخصوص قانونی حالات میں عدالت کی جانب سے سرچ وارنٹ جاری کرنے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 103 بعض تلاشیوں کے دوران مقامی معزز گواہوں کی موجودگی اور ضبط شدہ اشیا کی فہرست تیار کرنے جیسے تقاضوں کا احاطہ کرتی ہے۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ ہر پولیس تلاشی کے لیے لازماً عدالتی وارنٹ درکار نہیں ہوتا۔ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 165 کے تحت تفتیش کے دوران مخصوص قانونی شرائط پوری ہونے پر پولیس افسر وارنٹ کے بغیر بھی تلاشی لے سکتا ہے۔ ایسی صورت میں تلاشی کی وجوہات، متعلقہ ریکارڈ اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی اہم ہوتی ہے۔
لنڈی کوتل پریس کلب میں ہونے والی مبینہ کارروائی کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا متعلقہ افراد مجاز اہلکار تھے، کارروائی کے لیے قانونی بنیاد موجود تھی اور تلاشی کے دوران مقررہ ضابطۂ کار پر عمل کیا گیا یا نہیں۔
صحافیوں کے بنیادی مطالبات میں مبینہ اہلکاروں کی شناخت، کارروائی کا قانونی جواز سامنے لانا اور شفاف تحقیقات یقینی بنانا شامل ہیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے واضح مؤقف اور حقائق پر مبنی تحقیقات نہ صرف واقعے سے متعلق ابہام دور کر سکتی ہیں بلکہ صحافتی اداروں کے تحفظ، عوامی اعتماد اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
نوٹ: اس رپورٹ میں واقعے سے متعلق تفصیلات مقامی صحافیوں کے بیان کردہ مؤقف کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ مبینہ کارروائی کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین متعلقہ حکام کی وضاحت، دستیاب شواہد اور قانونی ریکارڈ کے جائزے سے ہی ممکن ہوگا۔
