پشاور میں غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کے خلاف یکم نومبر سے ممکنہ آپریشن کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کو مؤثر اور منظم انداز میں انجام دینے کے لیے پولیس، فیڈرل کانسٹیبلری، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور سیکیورٹی فورسز پر مشتمل 120 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ کارروائی کے لیے پشاور کو پانچ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں مختلف ٹیمیں اپنے مقررہ علاقوں میں ذمہ داریاں انجام دیں گی۔ منصوبے کے تحت 50 ٹیمیں بازاروں اور تجارتی مراکز میں کارروائیاں کریں گی، جبکہ 70 ٹیمیں سٹی ایریا، کینٹ، رنگ روڈ اور دیہی علاقوں میں تعینات ہوں گی۔

بازاروں اور رہائشی علاقوں پر خصوصی توجہ

ذرائع کے مطابق کارروائی کے سلسلے میں بازاروں، رہائشی علاقوں، کرائے کے مکانات اور تعلیمی اداروں میں غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کی نشاندہی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کی ٹیمیں ان مقامات پر شناختی دستاویزات اور قانونی رہائشی حیثیت کی جانچ کے لیے کارروائی کر سکتی ہیں۔

اس عمل میں مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ کارروائی کو طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔

پانچ سیکٹرز میں کارروائی کا منصوبہ

ذرائع کے مطابق ٹیموں کی تقسیم کا مقصد شہر کے مختلف علاقوں میں بیک وقت کارروائیوں کو ممکن بنانا اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کو واضح کرنا ہے۔ بازاروں میں تعینات ٹیمیں تجارتی مراکز پر توجہ دیں گی، جبکہ دیگر ٹیمیں شہری، کینٹ، رنگ روڈ سے ملحقہ اور دیہی علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گی۔

شہریوں کے لیے اہم امور

ایسی کارروائیوں کے دوران شناختی دستاویزات اور قانونی رہائشی حیثیت کی جانچ اہم ہو سکتی ہے۔ متعلقہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پاس موجود قانونی دستاویزات محفوظ رکھیں اور کسی بھی سرکاری کارروائی کی صورت میں متعلقہ حکام سے رہنمائی حاصل کریں۔

تاہم، یکم نومبر سے شروع ہونے والے اس آپریشن کے حتمی طریقۂ کار، گرفتاریوں یا ممکنہ منتقلی کے انتظامات، اور کارروائی کے دائرۂ کار سے متعلق مزید تفصیلات کی سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان امور سے متعلق حتمی صورتِ حال واضح ہونے کے لیے متعلقہ حکام کے باضابطہ بیان کا انتظار ہے۔