دریائے باڑہ پر گزشتہ 70 سال سے پل تعمیر نہ ہونے کا شکوہ، مقامی عمائدین کا گورنر خیبرپختونخوا، کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی نارتھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
ضلع خیبر: اپر باڑہ سپاہ میں دریائے باڑہ پر رابطہ پل نہ ہونے کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں مریضوں، خواتین اور بچوں کو علاج کے لیے چارپائیوں پر کندھوں اور خچروں کے ذریعے دریا پار منتقل کرنا پڑتا ہے۔ علاقے کے عوام نے گزشتہ سات دہائیوں سے رابطہ پل کی عدم تعمیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی مشران اور خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی کے رہنماؤں کے مطابق رابطہ پل نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو معمولی بیماری سے لے کر ہنگامی طبی صورتحال تک میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریضوں کو چارپائیوں پر اٹھا کر تقریباً پانچ کلومیٹر پیدل سفر کرتے ہوئے سڑک تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے گاڑی ملنے کے بعد انہیں علاج کے لیے باڑہ یا پشاور لے جایا جاتا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس دشوار گزار سفر کے دوران مریضوں کو کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس سے خصوصاً ہنگامی حالت میں موجود مریضوں، حاملہ خواتین اور زچہ و بچہ کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
قومی مشران واک خان، حشمت خان، حاجی ماصل خان، خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر برائے اپر باڑہ قاضی فرمان، علاقہ مکینوں اور سماجی کارکن طارق خان نے ایک نوجوان مریض کو چارپائی پر اٹھا کر دریائے باڑہ پار منتقل کرنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے عوام طویل عرصے سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ رابطہ پل کی تعمیر کے لیے ماضی میں حکومت کے مختلف اداروں، اعلیٰ حکام اور متعلقہ شخصیات تک اپنی آواز پہنچائی گئی، تاہم ان کے بقول آج تک اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
مقامی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ریاست کے تمام شہری یکساں توجہ اور بنیادی سہولیات کے حق دار ہیں، لیکن اپر باڑہ کے عوام کو درپیش مشکلات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے مسائل کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر علاقے کے لوگوں کو علاج معالجے تک رسائی اور آمدورفت کی بنیادی سہولت کیوں فراہم نہیں کی جا رہی؟
انہوں نے کہا کہ اگر کسی مریض کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہو، یا کسی حاملہ خاتون کو ہنگامی طور پر ہسپتال پہنچانا پڑے، تو رابطہ پل کی عدم موجودگی میں تاخیر مریض اور اس کے اہل خانہ کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
قومی مشران اور خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی کے نمائندوں نے گورنر خیبرپختونخوا، کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی نارتھ سے اپیل کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپر باڑہ میں دریائے باڑہ پر رابطہ پل کی تعمیر کی فوری منظوری دی جائے اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی جائیں۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ اپر باڑہ کے عوام کو درپیش مشکلات کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ مریضوں، خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں کو آمدورفت کی محفوظ سہولت میسر آ سکے اور انہیں علاج کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر دریا پار کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
