باڑہ میں جنگلات کی مبینہ غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ سے متعلق خبروں پر ڈی ایف او خیبر زاہد محسود نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ جنگلات غیر قانونی لکڑی کی نقل و حمل روکنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے، جبکہ اس سلسلے میں مقامی پولیس کے ساتھ مشترکہ اقدامات بھی جاری ہیں۔

میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایف او خیبر زاہد محسود نے بتایا کہ گزشتہ شب وادی تیراہ کی جانب سے لکڑی بالن سے لدی چھ گاڑیاں آ رہی تھیں، جنہیں محکمہ جنگلات اور مقامی پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران روک لیا گیا۔

ان کے مطابق گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بھاری جرمانہ وصول کیا گیا، جس کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ تاہم، جرمانے کی مجموعی رقم اور کارروائی کی دیگر قانونی تفصیلات سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

ڈی ایف او خیبر کا کہنا تھا کہ غیر قانونی لکڑی کی نقل و حمل کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے اس سرگرمی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات جنگلات کے تحفظ اور قانون کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں جنگلات کی مبینہ غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی نقل و حمل کے حوالے سے عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس معاملے پر محکمہ جنگلات کی کارکردگی، نگرانی کے نظام اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

جنگلات کے تحفظ اور غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام کارروائیوں کی تفصیلات، عائد کیے گئے جرمانوں اور قانونی کارروائی کے ریکارڈ کو شفاف انداز میں سامنے لائیں، تاکہ ان اقدامات کی مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے اور عوام کے تحفظات دور ہوں۔

محکمہ جنگلات کے مطابق غیر قانونی لکڑی کی نقل و حمل کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔