کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی نے واضح کیا ہے کہ ڈویژن میں بدعنوانی، انتظامی غفلت اور عوام کو غیر ضروری طور پر تنگ کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری دفاتر میں شہریوں کے مسائل فوری حل کیے جائیں، ڈومیسائل سمیت تمام سرکاری خدمات مقررہ وقت میں فراہم کی جائیں اور عوام کو اپنے جائز کاموں کے لیے بار بار دفاتر کے چکر لگانے سے بچایا جائے۔
کمشنر ہزارہ کی زیرِ صدارت ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کا تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتظامی امور، عوامی شکایات، سرکاری محکموں کی کارکردگی، صفائی ستھرائی، فیلڈ وزٹس، ریونیو معاملات اور بدعنوانی کے خاتمے سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے اضلاع کی انتظامی صورتحال، جاری اقدامات اور عوامی سہولیات کی فراہمی سے متعلق بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ رخ علی نے کہا کہ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری عوام کو سہولیات فراہم کرنا، ان کے مسائل کا بروقت ازالہ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں انتظامی معاملات کی مؤثر نگرانی کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر میں غیر ضروری تاخیر، انتظار اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سرکاری دفاتر میں حاضری اور عوام سے خوش اخلاقی یقینی بنانے کی ہدایت
کمشنر ہزارہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ماتحت افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری اوقاتِ کار کی پابندی یقینی بنائی جائے اور دفاتر میں حاضری کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین شہریوں کے ساتھ عزت، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آئیں، کیونکہ سرکاری ادارے عوام کی خدمت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نوعیت کی درخواستوں کو بلاجواز التوا میں نہ رکھا جائے اور ہر معاملے پر مقررہ وقت کے اندر کارروائی کی جائے۔ جہاں انتظامی غفلت یا عوامی شکایات سامنے آئیں، وہاں فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ سرکاری اداروں پر شہریوں کا اعتماد بحال اور مضبوط ہو۔
ڈومیسائل اور دیگر سرکاری خدمات میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی
شاہ رخ علی نے ہدایت کی کہ ڈومیسائل کے اجرا سمیت عوام سے متعلق تمام سرکاری امور بروقت مکمل کیے جائیں۔ خدمات کی فراہمی میں شفافیت، میرٹ اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے شہریوں کو کم وقت میں بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی طریقہ کار کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے تاکہ غیر ضروری پیچیدگیوں اور تاخیر کا خاتمہ کیا جا سکے اور شہریوں کو معمولی کاموں کے لیے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
ہزارہ ڈویژن میں صفائی مہم مؤثر بنانے کا فیصلہ
اجلاس میں ڈویژن بھر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ کمشنر ہزارہ نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے اپنے اضلاع میں منظم اور مؤثر صفائی مہم چلائی جائے۔
انہوں نے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز)، واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں اور کینٹونمنٹ بورڈز کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ شہری علاقوں میں صفائی، نکاسی آب اور عوامی مقامات کی دیکھ بھال کے انتظامات مؤثر بنائے جا سکیں۔
کمشنر نے واضح کیا کہ صفائی مہم کو محض عارضی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
ہسپتالوں اور سکولوں کے اچانک دورے کرنے کی ہدایت
کمشنر شاہ رخ علی نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری ہسپتالوں، بنیادی مراکزِ صحت، سرکاری سکولوں اور دیگر عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے باقاعدہ اور اچانک دورے کریں۔
انہوں نے کہا کہ ان دوروں کے دوران عملے کی حاضری، دستیاب سہولیات، عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات اور انتظامی امور کا جائزہ لیا جائے۔ افسران صرف دفتری اجلاسوں تک محدود نہ رہیں بلکہ فیلڈ میں جا کر عوامی مسائل کا مشاہدہ کریں اور جہاں سہولیات کی کمی یا غفلت سامنے آئے، وہاں فوری اقدامات یقینی بنائیں۔
ریونیو دفاتر اور پٹواریوں کے نظام کی سخت نگرانی
اجلاس میں ریونیو امور اور شہریوں کی شکایات کے ازالے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ کمشنر ہزارہ نے ہدایت کی کہ ریونیو دفاتر، پٹواریوں کے دفاتر اور سروس ڈیلیوری سینٹرز کی مؤثر نگرانی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ زمین، انتقالات اور دیگر ریونیو معاملات قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف انداز میں نمٹائے جائیں اور غیر ضروری تاخیر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
شاہ رخ علی نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سطح پر بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سرکاری اختیارات عوامی مفاد میں استعمال کیے جائیں اور شہریوں کو ان کے جائز حقوق کے حصول میں کسی غیر قانونی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سرکاری اقدامات اور عوامی سہولیات کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کی ہدایت
کمشنر ہزارہ نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں، فیلڈ وزٹس، ترقیاتی سرگرمیوں اور سرکاری خدمات سے متعلق اقدامات کو سوشل میڈیا کے ذریعے مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ذرائع ابلاغ کے مثبت استعمال سے عوام کو حکومتی اقدامات اور دستیاب سہولیات کے بارے میں بروقت آگاہ رکھا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں معلومات کی درستگی، شفافیت اور بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
ہر ضلع کی ضروریات کے مطابق نئے منصوبے متعارف کرانے پر زور
شاہ رخ علی نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن کے اضلاع جغرافیائی، سماجی اور انتظامی اعتبار سے مختلف ہیں، اس لیے ہر ضلع کی مقامی ضروریات اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل، شہری سہولیات میں اضافے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل تجاویز اور نئے اقدامات متعارف کرائے جائیں تاکہ عوام کو عملی فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اضلاع کے درمیان رابطہ کاری اور تجربات کے تبادلے کی ہدایت
اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اضلاع میں کامیاب انتظامی اقدامات اور تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں تاکہ مؤثر حکمتِ عملیوں کو ڈویژن کے دیگر اضلاع میں بھی اپنایا جا سکے۔
کمشنر ہزارہ نے کہا کہ باہمی تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور مسلسل رابطہ کاری سے انتظامی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تمام اضلاع میں عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے اور انتظامی فیصلوں کے نتائج کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔
صوبائی محکموں سے متعلق مسائل اعلیٰ سطح پر اٹھانے کا فیصلہ
کمشنر شاہ رخ علی نے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اضلاع میں صوبائی محکموں سے متعلق جن مسائل یا رکاوٹوں کا سامنا ہو، انہیں فوری طور پر رپورٹ کیا جائے تاکہ یہ معاملات متعلقہ صوبائی سیکریٹریز کے ساتھ اٹھا کر ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ہزارہ ڈویژن میں انتظامی امور کی بہتری، سرکاری خدمات کی بروقت فراہمی، شفافیت، بدعنوانی کے خاتمے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں گے۔
کمشنر ہزارہ شاہ رخ علی نے واضح کیا کہ انتظامیہ کی کامیابی کا اصل معیار عوام کو ریلیف فراہم کرنا، ان کے مسائل حل کرنا اور سرکاری اداروں کو زیادہ مؤثر، شفاف اور جواب دہ بنانا ہے۔
