بلو وینز نے رائز اینڈ شائن گرلز ایجوکیشن لیڈرشپ نیٹ ورک اور چائلڈ رائٹس موومنٹ کے اشتراک سے حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے شروع کی گئی گرین انرولمنٹ مہم 2026 کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس مہم میں بچیوں کی مساوی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر، واضح اور قابلِ پیمائش اقدامات کیے جائیں۔
سول سوسائٹی تنظیموں کے مطابق 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں لگ بھگ 29 لاکھ بچیاں شامل ہیں۔ یہ واضح صنفی فرق خصوصی توجہ اور ہدفی حکمتِ عملی کا متقاضی ہے۔
بلو وینز کے پروگرام مینیجر اور ملالہ فنڈ کے ایجوکیشن چیمپئن قمر نسیم نے کہا کہ گرین انرولمنٹ مہم ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے، تاہم اگر بچیوں کو درپیش رکاوٹوں—جیسے غربت، اسکولوں کا دور ہونا، بنیادی سہولیات کی کمی اور منفی سماجی رویے—کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو صنفی فرق برقرار رہے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ بچیوں کا داخلہ اور ان کی مستقل حاضری اس مہم کا مرکزی نکتہ ہونا چاہیے۔
رائز اینڈ شائن کی ایمبیسیڈر ماہم نفیس نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی بچیاں تعلیم حاصل کرنے اور قیادت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت محفوظ تعلیمی ماحول، خواتین اساتذہ کی تقرری، مناسب بیت الخلاء اور صفائی کی سہولیات فراہم کرے، اور کمیونٹی کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنائے تاکہ ہر بچی کو مساوی تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
چائلڈ رائٹس ایکسپرٹ اور چائلڈ رائٹس موومنٹ کے رکن عمران ٹکر نے کہا کہ تعلیم کوئی خیرات نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-اے اور خیبر پختونخوا فری اینڈ کمپلسری پرائمری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایکٹ 2017 کے تحت ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صنفی بنیادوں پر انرولمنٹ کا ڈیٹا عوام کے سامنے پیش کرے اور صنفی فرق کم کرنے کے لیے ٹھوس اور واضح اقدامات کرے۔
تنظیموں نے مشترکہ طور پر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم سے مطالبہ کیا کہ گرین انرولمنٹ مہم کے دوران صنفی حساس حکمتِ عملی اپنائی جائے، بچیوں کے اسکولوں کے لیے مناسب وسائل مختص کیے جائیں اور شفاف نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ مزید برآں، ضلعی سطح پر احتسابی فریم ورک تشکیل دینے، مقامی کمیونٹیز اور پیرنٹ ٹیچر کونسلز کو فعال بنانے، اور اُن اضلاع کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا جہاں بچیوں کی شرحِ داخلہ سب سے کم ہے۔
تنظیموں کا کہنا تھا کہ پائیدار سیاسی عزم اور خاطر خواہ بجٹ کے بغیر حقیقی اور دیرپا تعلیمی تبدیلی ممکن نہیں۔
