جب کسی علاقے کا ذکر سرخیوں سے غائب ہو جائے تو یہ سمجھ لینا غلط ہوتا ہے کہ وہاں کے دکھ بھی ختم ہو گئے ہیں۔ بعض اوقات مسائل شور نہیں مچاتے، وہ خاموشی سے انسان کی روح کو زخمی کرتے رہتے ہیں۔ وزیرستان بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں مسائل آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان پر بات کم اور توجہ اس سے بھی کم دی جا رہی ہے۔
وزیرستان کے لوگ برسوں سے مشکلات کے ساتھ جینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گھروں کو اجڑتے، بچوں کو خوف میں پلتے اور زمینوں کو بارود سے زخمی ہوتے دیکھا ہے۔ وہ دن بھی زیادہ پرانے نہیں ہوئے جب گھروں کے دروازے شام سے پہلے بند کر دیے جاتے تھے۔ ہر آہٹ دل دہلا دیتی تھی اور نقل مکانی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ آج اگر حالات نسبتاً بہتر دکھائی دیتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے۔ کچھ زخم وقت کے ساتھ نہیں بھرتے، بلکہ انسان کے اندر بس جاتے ہیں۔
آج بھی وزیرستان کے کئی دور دراز دیہات ایسے ہیں جہاں صاف پانی ایک خواب بن چکا ہے۔ خواتین اور بچے روزانہ میلوں کا سفر طے کر کے پینے کا پانی لاتے ہیں، مگر یہ پانی بھی اکثر آلودہ ہوتا ہے اور مختلف بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ وزیرستان میں بیمار ہونا صرف بیماری نہیں بلکہ مریض اور اس کے اہلِ خانہ کے لیے ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ علاقے میں ہسپتال کم ہیں، بنیادی سہولیات ناپید ہیں اور اکثر ڈاکٹر بھی دستیاب نہیں ہوتے۔ متعدد مرتبہ مریض کو شہر لے جانے کی کوشش میں قیمتی جان ضائع ہو جاتی ہے، اور پھر خاموشی سے ایک اور جنازہ اٹھا لیا جاتا ہے۔
تعلیم کا شعبہ بھی زبوں حالی کا شکار ہے۔ اسکولوں کی عمارتیں تو موجود ہیں، مگر ان کے دروازے بند ملتے ہیں۔ کہیں اساتذہ نہیں، کہیں سہولیات کا فقدان ہے، اور کہیں والدین غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچوں کو تعلیم کے بجائے مزدوری پر بھیج دیتے ہیں۔ بچیوں کی تعلیم کا مسئلہ تو اور بھی سنگین ہے۔ پرائمری کے بعد تعلیم کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ نہ قریب کوئی اسکول ہوتا ہے اور نہ محفوظ راستے میسر ہوتے ہیں۔ یوں ایک پوری نسل خواب دیکھنے سے پہلے ہی ہار مان لیتی ہے۔
وزیرستان کا نوجوان سب سے زیادہ بے چینی اور مایوسی کا شکار ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نہ صنعت ہے، نہ کاروبار کے وسائل، اور نہ ہی ہنر سکھانے کے مراکز۔ سرکاری نوکریاں محدود ہیں اور سفارش کے بغیر حصول تقریباً ناممکن ہے۔ نتیجتاً نوجوان دوسرے شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں یا احساسِ محرومی کے ساتھ وہیں گزر بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک مایوس نوجوان صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے خطرے کی علامت بن سکتا ہے۔
امن و امان کی صورتحال میں بظاہر بہتری ضرور آئی ہے، مگر خوف کا سایہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ بعض علاقوں میں بارودی سرنگیں آج بھی جان لیوا خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ کئی خاندان ابھی تک اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے۔ جو واپس آئے بھی ہیں، وہ اجڑے گھروں اور بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ واپسی کم اور زندہ رہنے کی جدوجہد زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر ان کا فائدہ عام آدمی تک کم ہی پہنچتا ہے۔ منصوبے اکثر فائلوں میں ہی دفن ہو جاتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فیصلے اکثر ان لوگوں کے بغیر کیے جاتے ہیں جو ان مسائل کو روز جیتے ہیں۔ جب تک مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا جائے گا، ترقی صرف نعروں تک محدود رہے گی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیرستان کے عوام نے اس ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، اپنے گھر چھوڑے اور خاموشی کے ساتھ سب کچھ برداشت کیا۔ اب ان کا مطالبہ کوئی خاص رعایت نہیں بلکہ اپنا بنیادی حق ہے — حقِ زندگی، حقِ تعلیم، حقِ صحت اور حقِ روزگار۔
میڈیا کی خاموشی نے ان مسائل کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ جب کسی خطے کی آواز سنائی نہیں دیتی تو اس کا درد بھی اجتماعی شعور سے مٹنے لگتا ہے۔ وزیرستان کو صرف سیکیورٹی کے تناظر میں نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے زاویے سے دیکھنے کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ یہ علاقہ بھی اسی ملک کا حصہ ہے اور یہاں کے لوگ بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی کسی اور شہر کے باشندے۔
اگر ہم واقعی ایک پُرامن، مضبوط اور ترقی کرتا ہوا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو وزیرستان کے مسائل پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ امن صرف بندوقوں کی خاموشی کا نام نہیں، امن تب قائم ہوتا ہے جب انسان خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کرے۔
وزیرستان کے مسائل آج بھی ہمیں پکار رہے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس پکار کو سننے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیونکہ جن زخموں پر وقت پر مرہم نہ رکھا جائے وہ ناسور بن جاتے ہیں، اور پھر صرف وزیرستان نہیں بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت چکاتا ہے۔
