خیبر: جمرود بازار سے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والی دو بچیوں کو پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں اور موبائل فون کی کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کی مدد سے بازیاب کرلیا۔

پولیس کے مطابق ایس ایچ او جمرود صدیق خان نے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد جدید طریقہ تفتیش اختیار کرتے ہوئے موبائل فون نمبرز کا ڈیٹا حاصل کیا اور مختلف نمبروں اور افراد سے متعلق معلومات کا جائزہ لینے کے بعد دونوں بچیوں کا سراغ لگایا۔

بازیاب ہونے والی بچیوں میں 15 سالہ فاطمہ اور 8 سالہ نازیہ دختر جان شامل ہیں، جو بازار زخہ خیل کی رہائشی ہیں۔

پولیس کے مطابق واقعے سے قبل بچیوں کے اہلخانہ کو ایک نامعلوم موبائل نمبر سے کال موصول ہوئی، جس میں انہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم ملنے کا جھانسہ دے کر جمرود آنے کو کہا گیا۔

پولیس کے مطابق بعد ازاں کال کرنے والے شخص نے بچیوں کے والد کو باڑہ آنے کا کہا۔ والد اکیلے باڑہ چلے گئے جبکہ دونوں بچیوں کو جمرود اڈے کی خواتین کے انتظار گاہ میں چھوڑ دیا گیا۔

والد کے مطابق جب وہ واپس جمرود پہنچے تو دونوں بچیاں وہاں موجود نہیں تھیں، جبکہ مذکورہ موبائل نمبر بھی بند پایا گیا۔ واقعے کے بعد والد نے جمرود تھانے میں درخواست دی، جس پر پولیس نے رپورٹ درج کرکے بچیوں کی تلاش شروع کردی۔

ایس ایچ او جمرود صدیق خان کے مطابق پولیس نے موبائل فونز کی کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) حاصل کرکے مختلف نمبروں سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں دونوں بچیوں کا سراغ لگایا گیا اور انہیں بازیاب کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق سی ڈی آر کے ذریعے سامنے آنے والے بعض موبائل نمبرز خواتین کے نام پر رجسٹرڈ پائے گئے ہیں، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بچیوں کو مبینہ طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم کے حصول کا جھانسہ دے کر جمرود بلایا گیا تھا، تاہم واقعے میں ملوث افراد اور اصل محرکات کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سرکاری امدادی پروگراموں یا مالی معاونت کے نام پر موصول ہونے والی مشکوک کالز پر فوری اعتماد نہ کریں اور کسی بھی مشتبہ صورتحال کی صورت میں متعلقہ پولیس کو اطلاع دیں۔