پشاور: تھانہ رحمان بابا کی حدود میں کرائے دار کی دو بیویوں کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار چاروں ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے۔

سی سی پی او پشاور کے مطابق پولیس گزشتہ روز گرفتار کیے گئے چاروں ملزمان کو جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جا رہی تھی کہ رحمان بابا کے نواحی علاقے میں ملزمان کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔

پولیس کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران زیرِ حراست چاروں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے، جبکہ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان میں مکان مالک بھی شامل تھا۔

رات گئے گھر میں داخل ہوکر اہل خانہ کو یرغمال بنایا گیا تھا

پولیس کے مطابق 6 ستمبر کو رات تقریباً 2 بجے چار مسلح افراد دیوار پھلانگ کر رحمان بابا میں ایک کرائے دار کے گھر میں داخل ہوئے تھے۔ گھر میں کرائے دار اپنی دو بیویوں، ایک بیٹے اور کم عمر بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اسلحے کی نوک پر اہل خانہ کو یرغمال بنایا، متاثرہ شخص اور اس کے بیٹے کو ایک کمرے میں باندھ دیا اور دونوں خواتین کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق ایک خاتون کے ساتھ تین ملزمان جبکہ دوسری خاتون کے ساتھ ایک ملزم نے مبینہ طور پر زیادتی کی۔ ملزمان نے گھر میں موجود کم عمر بچی کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا اور بعد ازاں اسے اس کے والد کے ساتھ باندھ دیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان گھر سے موبائل فون اور دیگر سامان بھی لے گئے تھے۔

متاثرہ خاندان نے رات ہی پولیس سے رابطہ کیا

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد متاثرہ خاندان پیدل تھانہ رحمان بابا پہنچا اور تقریباً صبح 4 بجے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔

اطلاع ملتے ہی مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے اسلحہ، لوٹے گئے موبائل فون اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا تھا۔

متاثرہ خواتین کے بیانات عدالت میں ریکارڈ

پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خواتین سے تفتیش کے دوران خصوصی احتیاط برتی گئی اور خواتین پولیس افسران نے ان کے بیانات قلم بند کرنے سمیت تفتیشی کارروائی میں حصہ لیا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کے لیے ماہرِ نفسیات کا سیشن بھی کروایا گیا، جبکہ ان کے بیانات عدالت کے روبرو بھی ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے شواہد اکٹھے کیے گئے تھے اور فرانزک تحقیقات بھی جاری تھیں۔ شواہد کے سائنسی تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی معاونت بھی حاصل کی جا رہی تھی۔

پولیس مقابلے کی مزید تحقیقات جاری

پولیس کے مطابق ملزمان کو جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ ان کے ساتھیوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ واقعے میں زیرِ حراست چاروں ملزمان ہلاک ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے، جبکہ مبینہ پولیس مقابلے اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔