کل سری لنکا کے تاریخی پریماداسا کرکٹ اسٹیڈیم میں آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں روایتی حریف پاکستان قومی کرکٹ ٹیم اور بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے درمیان اہم مقابلہ کھیلا جائے گا۔
پاکستان کی قیادت سلمان علی آغا جبکہ بھارت کی قیادت سوریا کمار یادو کریں گے۔ پاک بھارت مقابلے ہمیشہ عالمی کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں، اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں پر غیر معمولی دباؤ بھی دیکھا جاتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک 16 میچ کھیلے جا چکے ہیں، جن میں بھارت نے 13 جبکہ پاکستان نے 3 کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں دونوں ٹیمیں 8 مرتبہ آمنے سامنے آ چکی ہیں، جہاں پاکستان کو صرف ایک فتح نصیب ہوئی۔
اگرچہ گروپ مرحلے کا یہ مقابلہ روایتی اہمیت کا حامل ہے، تاہم اس کا نتیجہ کسی بھی ٹیم کی اگلے مرحلے میں رسائی پر اثر انداز نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں ٹیمیں پہلے ہی سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں۔ ٹورنامنٹ فارمیٹ کے مطابق سپر 8 میں دونوں ٹیموں کا آمنا سامنا ممکن نہیں، البتہ سیمی فائنل یا فائنل میں دوبارہ ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔
پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی میچز میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کا اوسط اسکور تقریباً 150 جبکہ دوسری بیٹنگ کرنے والی ٹیم کا اوسط اسکور 130 کے قریب رہا ہے۔ پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کی جیت کا تناسب 46 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان ٹیم میں ممکنہ تبدیلیوں پر بھی غور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی جگہ نسیم شاہ یا سلمان مرزا کو موقع مل سکتا ہے، جبکہ محمد نواز کی جگہ تجربہ کار بیٹر فخر زمان کی شمولیت زیر غور ہے۔
شائقین اور ماہرین کی نظریں بھارت کے جارح مزاج بیٹر ابھیشیک شرما کی کارکردگی اور پاکستان کے نئے اسپن بولر عثمان طارق پر مرکوز ہیں۔
گروپ مرحلے میں کامیابی کسی بھی ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل میں ممکنہ حریفوں کے خلاف اعتماد بڑھانے کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ یہ ہائی وولٹیج مقابلہ کل شام ساڑھے 6 بجے شروع ہوگا۔ میچ کی تمام ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں، تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کی پیشگوئی کے باعث میچ متاثر ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
