خیبر میں پولیس اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ایک ماہ قبل اغوا ہونے والے مقامی تاجر حاجی محمد ظریف عرف لنڈے کو بحفاظت بازیاب کرلیا گیا، جبکہ اغوا کے مقدمے میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ڈی پی او خیبر وقار احمد نے ایس ایچ او عدنان آفریدی اور بازیاب ہونے والے تاجر حاجی محمد ظریف کے ہمراہ تھانہ لنڈی کوتل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اور فرنٹیئر کور کے جوانوں نے مربوط اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مغوی تاجر کو بازیاب کرایا۔
ڈی پی او کے مطابق حاجی محمد ظریف عرف لنڈے کو 7 اگست کو لنڈی کوتل بازار کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا آغاز کیا اور مغوی کی بازیابی کے لیے جدید سائنسی خطوط پر تحقیقات جاری رکھیں۔
وقار احمد نے بتایا کہ پولیس نے دیگر اداروں کے ساتھ رابطے اور باہمی تعاون کے ذریعے اغوا کاروں کے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ دورانِ تفتیش گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اغوا کاروں کے ممکنہ ٹھکانے کا سراغ لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک ماہ تک مسلسل تفتیش اور معلومات کی تصدیق کے بعد گزشتہ رات پولیس نے سدو خیل کے پہاڑی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ایک غار تک رسائی حاصل کی، جہاں مغوی تاجر کو رکھا گیا تھا۔
ڈی پی او کے مطابق مغوی کی بازیابی سے قبل اغوا کے مقدمے میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا تھا، جن سے تفتیش کے دوران اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ تاہم کارروائی کے وقت غار میں کوئی اغوا کار موجود نہیں تھا۔
وقار احمد نے بتایا کہ مغوی تاجر کو بحفاظت بازیاب کرلیا گیا ہے جبکہ اغوا کاروں کے پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ گروہ کا سرغنہ تاحال روپوش ہے، تاہم اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اسے جلد گرفتار کرنے کی توقع ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران بازیاب ہونے والے تاجر حاجی محمد ظریف بھی موجود تھے۔ ڈی پی او خیبر وقار احمد نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔
