جمرود : تودہ میلہ، ہاشم خان کلے جمرود میں قائم گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول گزشتہ آٹھ سال سے مستقل خواتین اساتذہ سے محروم ہے، جس کے باعث علاقے کی بچیوں کی تعلیم شدید متاثر ہورہی ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق سکول میں ایک بھی مستقل خاتون ٹیچر موجود نہیں، جس کی وجہ سے بچیاں روزانہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول پہنچنے کے باوجود تدریسی عمل شروع نہ ہونے پر واپس گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ مستقل اساتذہ کی عدم دستیابی کا مسئلہ گزشتہ کئی برس سے جاری ہے، جس کے باعث بچیوں کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہورہا ہے اور ان کی تعلیم کا مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مقامی افراد کے مطابق سکول میں اساتذہ کی تعیناتی کے لیے متعدد مرتبہ محکمہ تعلیم کے دفاتر اور متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا اور درخواستیں بھی دی گئیں، تاہم تاحال مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا جاسکا۔
مسلسل عدم توجہی کے خلاف اہلِ علاقہ نے احتجاجاً سکول کو تالے لگا کر بند کردیا اور مطالبہ کیا کہ جب تک مستقل خواتین اساتذہ تعینات نہیں کی جاتیں، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمام بچوں کو بلاامتیاز معیاری اور قابلِ رسائی تعلیم کی سہولیات فراہم کرے۔
ان کے مطابق کسی سرکاری سکول میں کئی سال تک مستقل استاد کا موجود نہ ہونا تعلیمی نظام میں ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے سب سے زیادہ منفی اثرات بچیوں کی تعلیم اور مستقبل پر پڑ سکتے ہیں۔
اہلِ علاقہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، سکول میں مستقل خواتین اساتذہ تعینات کی جائیں اور بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ بلا تاخیر بحال کیا جائے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مذکورہ گرلز پرائمری سکول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حلقۂ انتخاب پی کے 70 میں واقع ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی حکومت بچیوں کی تعلیم کو ترجیح دے رہی ہے تو مذکورہ سکول میں اساتذہ کی عدم دستیابی کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔
