جمرود: ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے علاقے سور کمر کے رہائشی چنار گل نے اپنے دیگر اہلخانہ کے ہمراہ جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بیٹے کاشف اللہ کے قتل میں ملوث مبینہ افراد کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
چنار گل نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان کا نوجوان بیٹا کاشف اللہ گزشتہ چار سال سے کامران نامی شخص کے حجرے میں ملازمت کررہا تھا اور ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنے بیٹے سے چھٹی کرکے گھر واپس آنے کا کہا تھا، جس پر کاشف اللہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جمعہ کے بعد گھر واپس پہنچ جائے گا۔ تاہم جمعہ گزرنے کے باوجود جب وہ گھر نہ پہنچا تو اہلخانہ نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کا موبائل فون بند تھا۔
چنار گل کے مطابق وہ خود کامران کے گھر گئے، جہاں انہیں بتایا گیا کہ کاشف اللہ جمعہ کی شام تقریباً 6 بجے وہاں سے روانہ ہوگیا تھا، تاہم اس کے بعد وہ کہاں گیا، اس بارے میں انہیں کوئی معلومات نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دو روز بعد کاشف اللہ کی لاش جمرود کے علاقے سرکئی پہاڑ سے ملی، جس پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔
کاشف اللہ کے والد کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی بھی نہیں تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ان کے بیٹے کو کیوں قتل کیا گیا اور مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے:معروف ترک اداکار سیرحات کلیچ 51 برس کی عمر میں انتقال کر گئے https://herlensurdu.com/post/411
چنار گل نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کے انویسٹی گیشن افسر سلطان رضا نے کیس کی تحقیقات میں بھرپور کوشش کی تھی اور مبینہ طور پر قتل میں ملوث افراد تک پہنچنے کے قریب تھے، تاہم ان کا تبادلہ کردیا گیا، جس کے بعد کیس کی پیش رفت سست روی کا شکار ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کو تقریباً ایک سال مکمل ہونے والا ہے، لیکن تاحال کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی، جس کے باعث مقتول کے اہلخانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
کاشف اللہ کے والد چنار گل نے ڈی پی او خیبر، سی سی پی او پشاور اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ کیس کی ازسرنو اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، قتل میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف کی فراہمی اور کیس میں پیش رفت یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
