باجوڑ: تحصیل سلارزئی میں گزشتہ شب ہونے والے بم دھماکے نے رحمان ہیئر ڈریسر کی دکان کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ وہاں قائم ایک چھوٹے مگر منفرد کتب خانے کو بھی ملبے میں تبدیل کر دیا۔
رحمان سلارزئی بی اے کے طالب علم ہیں، جو محنت سے حلال روزگار کمانے کے ساتھ اپنی دکان میں پشتو اور اردو ادب، تاریخ اور اسلامی موضوعات پر مشتمل کتابوں کی ایک خوبصورت لائبریری بھی قائم کیے ہوئے تھے۔
رحمان کی دکان محض بال کٹوانے کی جگہ نہیں تھی بلکہ علاقے میں مطالعے اور مثبت سوچ کے فروغ کا ایک منفرد مرکز بن چکی تھی۔ دکان پر آنے والے گاہکوں کو انتظار کے دوران موبائل فون استعمال کرنے کے بجائے کتاب پڑھنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔
مطالعے کی حوصلہ افزائی کے لیے رحمان نے ایک منفرد اقدام بھی کیا تھا۔ کتاب پڑھنے والے گاہکوں کے لیے بال کٹوانے کی فیس میں 30 فیصد رعایت مقرر کی گئی تھی۔ اس طرح ایک عام سی ہیئر ڈریسر کی دکان رفتہ رفتہ ایسے مقام میں تبدیل ہوگئی جہاں روزمرہ مصروفیات کے ساتھ علمی، ادبی اور سماجی موضوعات پر بھی گفتگو ہوتی تھی۔
مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات تقریباً ساڑھے 11 بجے ہونے والے دھماکے سے رحمان کی دکان، روزگار اور برسوں سے جمع کی گئی قیمتی کتابوں کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد دکان کا بیشتر سامان تباہ ہوگیا جبکہ کتابوں پر مشتمل کتب خانہ بھی ملبے تلے دب گیا۔
رحمان سلارزئی کی یہ کاوش اس بات کی مثال تھی کہ پسماندہ اور شورش زدہ علاقوں میں بھی نوجوان اپنی محدود وسائل کے باوجود علم، مطالعے اور شعور کے فروغ کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے لیے کتاب محض کاغذ کے چند صفحات نہیں بلکہ ایک بہتر اور پُرامن مستقبل کی امید ہے۔
باجوڑ میں امن، تعلیم اور مثبت سوچ کے لیے آواز بلند کرنے والے افراد ماضی میں بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ شہید مولانا خانزیب کی جدوجہد اور ان کی شہادت بھی اسی تلخ حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف آواز اٹھانے کی قیمت اس خطے کے لوگوں نے بارہا ادا کی ہے۔
رحمان کی دکان پر ہونے والے دھماکے سے اینٹیں، شیشے، فرنیچر، روزگار اور کتابیں تو تباہ ہوسکتی ہیں، تاہم علم حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا جذبہ بارود سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ واقعہ صرف ایک دکان کی تباہی نہیں بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ ایسے ماحول میں، جہاں نوجوان تعلیم، روزگار اور امن کے لیے اپنی بساط کے مطابق کوشش کر رہے ہیں، ان کے تحفظ اور مستقبل کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
باجوڑ کے عوام نے بارہا اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ان کے علاقوں میں امن، تعلیم اور ترقی کا راستہ ہموار ہو۔ رحمان سلارزئی کا چھوٹا سا کتب خانہ بھی اسی خواہش کی ایک خوبصورت علامت تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو مشکل حالات کے باوجود علم اور شعور کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں، اور دہشت و خوف کے مقابلے میں کتاب، تعلیم، امن اور مثبت سوچ کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
